حال دل
Posted January 10th, 2006 by 'abdآۓ تھے کہنے حال دل بیٹھے ہیں لب سیۓ ہوۓ
سر اپنا خم کۓ ہوۓ اپنا سا منہ لۓ ہوۓ
چھڑو نہ ہم کو زاہدو! بیٹھے ہیں ہم پیۓ ہوۓ
چاہتے ہو جو لوٹنا زہد کو تم لۓ ہوۓ
کسیے گۓ تھے شوق سے لینے اس آشنا کو ہم
ویسے کے ویسے رہ گۓ اپا سا منہ لۓ ہوۓ
جاں سے بھی عزیز کیوں مجھ کو نہ ہوں یہ داغ دل
ہاۓ کسی کوکیا خبر کس کے ہیں یہ دیۓ ہوۓ
کہنے کو ہجر ہے مگر دل کی کسی کو کیا خبر
پھرتے ہیں اس نگار کو پہلو میں ہم لیۓ ہوۓ
ہوگۓ زندہ مردہ دل جب یہ سنا وہ آئیں گے
جب یہ سنا نہ آئیں گے مرگۓ پھر جیۓ ہوۓ
چاہتے ہیں نہ فاش ہو ان کو جومجھ سے ربط ہے
رہتے ہیں سب کے سامنے خود کو جو وہ لیۓ ہوۓ

