میں نے تمہیں دیکھا ہے Posted on October 17, 2009 by 'abd ماثور دعاؤں میں منثور ثناؤں میں مامور ہواؤں میں مسحور فضاؤں میں میں نے تمہیں دیکھا ہے خورشید کے تاروں مین راتوں کے ستاروں میں آنکھوں کے خماروں میں یاروں کے نظاروں میں میں نے تمہیں دیکھا ہے برکھا کی پہواروں میں ساون کی بہاروں میں پودوں کی قطاروں میں کوئل کی پکاروں میں میں نے تمہیں دیکھا ہے ہر قطرہ باراں میں ہر ذرّہ تاباں میں ہر برگ گلستاں میں ہر روۓ درخشاں میں میں نے تمہیں دیکھا ہے گلزار میں، خاروں میں کہسار میں غاروں میں گنبد میں، میناروں میں خلوت میں، ہزاروں میں میں نے تمہیں دیکھا ہے (حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ)