ذکر و لطائف کی تفصیل
Posted November 11th, 2009 by 'abd
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ نے فرمایا
چونکہ تصور (ذکر) کے دراجات مختلف ہیں اس لئے تقریب و تسہیل فی الجملہ و تعین دراجات کے واسطے میں ایک تمثیل میں پانچ درجے بیان کرتا ہوں
1۔ محبوب موجود و حاضر نہ ہو بلکہ غائب و غیر موجود ہو اس کو یاد کیا جاۓ ۔
2۔ وہ شخص سامنے موجود ہو لیکن مسافتہ بعیدہ پر جس سے خدوخال اچھی طرح نظر نہ آسکیں اس کا تصور کیا جاۓ۔
3۔ وہ شخص سامنے مسافت قریبہ پر موجود ہو جس سے خدوخال اچھی طرح نظر آسکیں اس کا تصور کیا جاۓ۔
4۔ وہ شخص بالکل قریب موجود ہو، اس کے تصور و دیدار میں اسقدر محویت ہو جاۓ کہ فرط عشق و محبت سے اپنی بھی خبر نہ رہے
5۔ وہ محویت یہاں تک ترقی کرے کہ بیخبری کی بھی خبر نہ رہے۔
- – - – - -
اب ہم ان دراجات کے اصطلاحی اور منقول نام بتلاتے ہیں۔
1۔ درجہ اول کا نام ذکر ہے کیونکہ اس میں محض یاد ہے۔
2۔ درجہ ثانی کا نام حضور ہے کیونکہ اس میں متصور و مرئی سامنے حاضر ہوتا ہے۔
3۔ درجہ ثالث کا نام مکاشفہ ہے کیونکہ مرئی کے غابت قرب کی وجہ سے حضور تام اور خال وخط کا کامل انکشاف ہوتا ہے۔
4۔ درجہ رابع کا نام شہود و مشاہدہ ہے کیونکہ اصطاحا” شہود و مشاہدہ حضور اتم و اکمل کو کہتے ہیں اور اس درجہ میں حضور اتم و اکمل سے غایت شیفتگی و فریفتگی و وفور ولولہ ہوتا ہے۔ نیز اس کا نام فناء بھی ہے کیونکہ محوبت کی وجہ سے اپنی ہستی کا علم نہیں ہوتا۔
5۔ درجہ خامسہ کا نام معائنہ ہے کیونکہ معائنہ سے مراد وہ حضور و معائنہ ہے جو شہود اصطلاحی سے زائد ہو۔ اس درجہ میں معائنہ شہود اصطلاحی سے زائد ہوتا ہے کیونکہ لا علمی سے بھی لا علمی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام فناءالفناء بھی ہے۔
_ _ _ _ _ _ _
1۔ لطیفہ قلب کا فعل ذکر ہے۔
2۔ لطیفہ روح کا فعل حضور ۔
3۔ لطیفہ سر کا فعل مکاشفہ ۔
4۔ لطیف خفی کا فعل شہود و مشاہدہ و فناء۔۔
5۔ لطیفہ اخفی’ کا فعل معائنہ و فناءالفناء ہے۔
بعض حضرات مشائخ کی راۓ ہے کہ ذکر کی بطرز معہود و مخصوص اس قدر مشق کی جاۓ کہ یہ لطائف خمسہ علیحدہ ذاکر ہو جائیں یعنی یہ سب افعال صادر ہونے لگیں۔
بعض حضرات کی راۓ یہ ہے کہ صرف قلب سے ذکر کی مشق کی جاۓ جس سے ان سب افعال کا صدور ہونے لگے اور اس کی باکل ضرورت نہیں کہ یہ بتابا جاۓ کہ یہ فعل کس لطیفہ کا ہے۔ بہ حضرات لطائف کی طرف توجہ تفصیلی کو حجاب سمجھتے ہیں۔ حدیث شریف میں بھی ایسے امور میں صرف قلب ہی کہ ذکر وارد ہوا ہے۔
اور چونکہ مشغولین بالطائف کے نزدیک بھی ان لطائف خمسہ میں باہم اتصال ہے۔ اس لئے صرف ذکر قلب سے بھی بقیہ لطائف میں آثار و افعال مذکورہ سرایت کرتے جاتے ہیں، کیونکہ یہ لطائف مرایا متعاکسہ کی طرح ہیں۔
بوادر النوادر، صفحہ 565-6


Leave a Reply
You must be logged in to post a comment.