Writing everything to shaykh

image

A spiritual aspirant wrote:
When writing letter and describing my progress on daily mamoolat, acting on advise of Hazrat e wala db sometime it feels it is riya (ostentation). Please advise if writing everything in black and white to shaykh is correct? Jazaak Allah

Sayyidi wa sanadi Hazrat Moulana Mohammad Taqi Usmani sahib (Allah SWT preserve him and allow us to benefit from him abundantly. Ameen) replied:
“It is correct. It is not riya (ostentation).”

Meraj us Salikeen: Islahi Khutoot #6

 

Writing blame worthy morals to shaykh

IMG_2450.PNG

A spiritual aspirant wrote:
I read in Basair Hakeem ul Umma ra that one should write to his shaykh one issue at a time and get advise on its cure. I don’t know where to start for myself, as I see I have too many issues to mention. Where should I start? Please advise. Jazaak Allah

Sayyidi wa sanadi Hazrat Moulana Mohammad Taqi Usmani sahib (Allah SWT preserve him and allow us to benefit from him abundantly. Ameen) replied:
“You have written about anger. Now start writing about other issues one by one. When writing an issue, please describe the incident due to which you suspect it is a blame worthy moral.”

Meraj us Salikeen: Islahi Khutoot #6

Salah in congregation

IMG_1156.JPG

In Radd al-Muhtar it states:
“The totality of excuses which has passed in the text and commentary are twenty which I versified in my saying:

The excuses of leaving out jamā‘ah are twenty which indeed I have inserted in the arrangement of verses like pearls:
Sickness, infirmity, blindness, being crippled
Rain, muddy ground then coldness that causes harm, Amputation of a leg with a hand or within them
Paralysis, an old man’s weakness and the intention to travel,
Fear of wealth, likewise of an oppressor
Or creditor, and desire to eat food that is present,
Wind at night, darkness, nursing a person with Sickness, the compulsion of urine or faeces,
Then, occupation with nothing besides knowledge
in Some situations is an excuse that is considered.” (1:581)

Darul Ma’arif

Desire, deception and ignorance

IMG_1148.JPG

Shaikh Ma’ruf al Karkhi (Allah have mercy on him) said,

‘Desiring Paradise without performing good deeds is from sinful actions.
And to expect intercession without means is a form of deception.
Moreover, without performance of virtuous deed expecting mercy (of Allah) is ignorance and stupidity.’

Eqaz al Himam, page 300 (Urdu)

المعراج السالكين: قصه بيعت

IMG_0011.JPG

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

الحمداللہ آپکی دعاوں اور کوششوں سے احقر کو حضرت والا سيدى و سندى مفتى محمد تقى عثماني دامت برکاتہم سے بیعت کی سعادت حاصل ہوگئی ہے۔ اس نعمت پر اللہ سبحانہ تعالی کا جتنا شکرادا کیا جائے کم ہے۔ ساتھ ساتھ احقر تہ دل سا آپ کا مشکور ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی آپکو اس کا اجر عظیم عطا فرما ئے۔ امین

اردو میں خط اس لئے لکھ رہاہوں کہ مجھے لگا کہ اس طرح سے احقر اپنا مافی الضمیرزیادہ بہتر طریقہ پر بیان کرسکو نگا۔ اللہ سبحانہ تعالی آسان فرمائے۔ آمین

کل آپ کے جانے کے بعد، احقر نے کچھ دیراور انتظار کیا اور جب حضرت والا دامت برکاتہم نماز سے فارغ ہوئے تو احقر ان سے ملا اور بتایا کہ حضرت والا دامت برکاتہم نے آج مغرب کے بعد بیعت کے لئے فرمایا تھا۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے آئیے میرے ساتھ۔ میں ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، راستے میں کچھہ اور لوگ بھی حضرت والا دامت برکاتہم سے مصافحہ کرتے رہے۔ جب ھم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت والا دامت برکاتہم کے جوتے وہاں نہیں تھے۔ گارڈ نے اندر بھی دیکھا اور دوسرے دروازے پر بھی دیکھا لیکن نہیں ملے۔ معلوم ہوا کسی طالب علم نے لئے تھے اور اب پتا نہیں کہاں رکھے تھے۔ حضرت والا دامت برکاتہم اس دوران وہیں دراوزے پر کھڑے انتظار فرماتے رہے۔ ہم لوگوں نے جو وہاں موجود تھے، حضرت والا دامت برکاتہم سے عرض کیا کہ ہمارے جوتے پہن لیں۔ لیکن حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اپ لوگ وہاں تک کیسے جائینگے، میرے تو پھر بھی جرابیں ہیں، اس لئے میں ایسے ہی چلتاھوں۔ حضرت والا دامت برکاتہم جانے لگے تو دارالعلوم کے ایک ملازم اگئے جنہوں نے اپنے جوتے پیش کئے جو حضرت والا دامت برکاتہم نے پہن لئے اور ان میں گھر تشریف لے گئے۔

گھرپہنچ کرحضرت والا دامت برکاتہم نے احقر کو بھی اندربلوالیا اور فرمایا کہ دروازہ کھلواتے ہیں۔ دروازہ کھلوانے کے بعد پہلے حضرت والا دامت برکاتہم نے وہ جوتے جن کے تھے وہ واپس کئے اور اتنی دیر میں معلوم ہوا کہ وہ دوسرے جوتے بھی مل گئے ہیں جو کسی دیوار یا پلر کے پاس کہیں رکھ دئے گئے تھے۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے احقر کو فرمایا کہ آیئےتشریف رکھیے۔

زمین پر حضرت والا دامت برکاتہم خود بھی تشریف فرما ہوئے اوراحقر بھی بیٹھ گیا۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ” بھئی یہ تو معلوم ہوگا کہ بیعت کوئی فرض و واجب تو ہے نہیں، مسنون ہے۔ اوراحقراپنے بزرگوں کے حکم سے بیعت کرلیتاھوں۔ توآپ کو بیعت کرلونگا۔ تعلیم کے لئے جیسا ابھی آپ ڈاکٹر صاحب سے تربیت لے رہے ہیں، وہ لیتے رہیں اور اگر کہیں ضرورت ہو تو مجھ سے بھی پوچھ لیا کریں۔” پھر فرمایا ” کہ اب میں پہلے خطبہ پڑہونگا، پھر اپنے ہاتھ جب آپکی طرف بڑھادوں تو اپنے ہاتھوں کو میرے ھاتھوں میں دے دیجگا اور جو میں کہوں وہ میرے ساتھ دھراتے رہیں ۔” اس دوران جب حضرت والا دامت برکاتہم یہ فرماتے رہے توجہاں حضرت والا دامت برکاتہم استفسار احقر سے فرماتے تھے تو احقر جی، جی عرض کرتا رہے۔ اب حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ شروع فرمایا:
اول – حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھا جو حضرت والا دامت برکاتہم اپنے وعظ سے پہلے پڑھتے ہیں۔
دوم – حضرت والا دامت برکاتہم نے قران شریف کی کچھ آیتیں پڑھیں۔ جن میں کچھ ابھی احقر کو یاد ہے کچھ انشااللہ جب کہیں دیکھوں گا تویادآجائیگا۔ جو ابھی یاد ہے وہ یہ ہیں: وجاھدوفینالنھدینھم سبلنا اور کونومع الصادقین کی پوری آیتیں۔
سویم – ایک آیت پر جب حضرت والا دامت برکاتہم پہنچے تو حضرت والا دامت برکاتہم نے اپنے مبارک ہاتھ آگے بڑھادیے۔ احقر نے اپنے ھاتھ حضرت والا دامت برکاتہم کے مبارک ہاتھوں میں دے دئیے۔ اب حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ” میں بیعت (داخل) ہوتا ہوں چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور قادریہ سلسلے میں بواسطہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مسیح اللہ خان رحمتہ اللہ علیہ۔ میں توبہ کرتا ہے ھر قسم کے گناہ سے، کقروشرک سے، بدعت و برائی سے۔ اور عہد کرتا ہوں کہ اگر کھبی کوئی غلطی ہوجائے تو اسکا تدارک کرونگا۔ اور میں ایمان لایا اللہ پر، اسکے ملایئکہ پر، رسولوں پر، اچھی اور بری تقدیر پر اور قیامت کےدن دوبارہ زندہ ہونے پر۔”
چہارم – اسکے بعد حضرت والا دامت برکاتہم نے استقامت اور برکت کی دعا فرمائ۔

جب احقر جانے لگا تو ایک بار پھرمصافحہ فرمایا اور احقر نے عرض کیا کہ حضرت دعا کی خصوصی درخواست ہےاور ساتھ میں یہ بھی عرض کیا کہ میں آفس میں حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کرسکتا ہوں۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا ” ضرور”۔

اب احقر اپنے تاثرات بیان کرتا ہے۔ ہفتے کے دن جب حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مغرب کے بعد مل لیجیئے گا تو تب سے ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ ھر گزرتے لمحے کیساتھ اس میں اضافہ ہورہا تھا کہ احقر کو بھی یہ سعادت مل جائیگی، ساتھ میں جیسا آپ نے فرمایا تھا ویسی ہی اخلاص کی دعا بھی مانگ رہا تھا۔ پھر اتوارکے دن جب حضرت والا دامت برکاتہم سے ملا اور حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ آئیے میرے ساتھ تو بلکل ہی ایک عجیب سا حال رہا۔ اسکے بعد جب باقاعدہ بیعت کا مرحلہ شروع ہوا تو اس وقت کی کیفیات کا بیان نہیں ھوسکتا۔ بس دل ہی دل میں اللہ سبحانہ تعالی سے استقامت کی دعائیں مانگتا رہا اورسوچتا رہا کی اللہ سبحانہ تعالی اس نسبت کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

باقی احقرجو حضرت والا دامت برکاتہم کو ہمیشہ دیکھتا رہا ہے، وہ ہے حضرت والا دامت برکاتہم کی تواضع۔ ایک طرف تو حضرت والا دامت برکاتہم کا بے تحاشہ رعب دل پر رہتا ہے اور ایک طرف جب حضرت والا دامت برکاتہم کچھ فرماتے ہیں تو مسکرا کر اور بہت ہی نرم وخوبصورت لہجے میں، کہ دل قربان ہوجاتا ہے۔ بس یہی دعائیں دل سے نکل رہی تھی، کہ یااللہ، تو حضرت والا دامت برکاتہم اور ڈاکٹرصاحب دامت برکاتہیم کی اس نسبت کی قدردانی کی توفیق عطا فرما اور جو اس تعلق کا حق ہے وہ تو میں ادا نہیں کرسکتا لیکن اپنی مقدور بھر کوشش کی توفیق ضرورعطا فرما اوراس میں سستی سے محفوظ فرما۔ آمین۔

اوپر جو کچھ احقر نے بیان کیا ہے، یہ محض اپنے حا فظہ سے بیان کیا ہے، لہذا اس میں کچھ الفاظ میں کمی بیشی ھوسکتی ہے جو مجھے یاد نہ رہے ہوں لیکن مفہوم کم و بیش یہی تھا۔

آخر میں احقرآپ سے بھی دست بدستہ دعاوں کی درخواست کرتا ہے، احقر کو جو کچھ بھی مل رہے وہ اپ ہی کی برکت اور بدولت ہے ورنہ ادھر تو کچھ بھی نہیں ہے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر نفس و شیطان کے حوالے کرچکا تھا۔ اللہ سبحانہ تعالی مجھے اس نسبت اور تعلق کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت کی رسوائی سے بچائے ۔ آمین۔

اللہ سبحانہ تعالی حضرت والا دامت برکاتہم اور آپکی عمر، علم اور وقت میں خصوصی برکتیں نازل فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین

محتاج دعا

٢٥ اكست ٢٠١٤

٢٨ شوال ١٤٣٥

An important reminder

IMG_2383.JPG

Sayyidi wa sanadi Mufti Mohammad Taqi Usmani (Allah preserve him) usually instructs a novice traveller (salik) on this path to read the published lecture series ‘Islahi Khutbaat’ and ‘Islahi majalis’. After reading a substantial amount from them he should focus on the discourses and malfuzat of Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) for the rest of his life.

It is essential to pay attention to this advice.

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) is the mujaddid of the path we follow. The Ashrafiya path. Reading his works in original is imperative to gain the insight for the experiential knowledge of Allah ( al marifah) sought by those on this path.

We are from the third or fourth generation after Hakim al Umma. Our Shuyukh have kindly paraphrased and simplified those teachings according to our understanding. However, these are the initial stepping stones to the original text.

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) has himself mentioned the benefit of the original text in his malfuzat. Acknowledging them as a gift from Allah, he said that these are Divinely inspired words and therefore most beneficial is one’s islah.

The most common excuse we have is that our comprehension skills for Urdu reading are poor. This is an area we need to improve. Moreover, present day Mashaikh are requested to read to their audience from the original texts of Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) and explain or translate if necessary.

This is important to inherit from the spiritual legacy of Ashrafiya path.

May Allah facilitate this for all of us. Amin!

Facilitation of nisbet e batini

IMG_1040.JPG

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) said,

‘It is due to the Shaikh (1) that acquisition of nisbet e batini is facilitated. Alone hundreds of years of spiritual struggle maybe needed to acquire it.

This nisbet e batini is a gift from Allah. The spiritual struggle is required for it but it is not the reason d’être for it.
Even if it (is considered to be a) a cause then it is a commonly occurring (result) and not the real one.’

Husn al Aziz, Malfuz # 459, volume 1, page 83

(1) His guidance and barakah.

Means of acquiring Tasawwuf

IMG_1092.JPG

Shaikh Junaid Baghdadi (Allah have mercy on him) said,

‘We did not acquire Tasawwuf by discussions or argumentations.

In reality we acquired it by going hungry (1), keeping awake (2) and being persistent in our actions (3).’

Eqaz al Himam, Urdu, page 332

(1) From all that is impermissible or suspicious or causes laziness.
(2) In acquiring knowledge, performing tahajjud, remembrance of Allah and intimate conversation with Allah
(3) Performance of good and abstinence from sinful deeds, both physical and that of qalb

Tip regarding household finances

IMG_1138.JPG

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah mercy on him) said,

‘I do not issue a verdict (fatwa) but strongly suggest that the household financial administration should be in the hands of one’s wife or himself. It should not be in the hands of others, regardless of them being brother, sister, mother or father. This is because doing so will extremely dishearten the wife.

Therefore, either the husbands should keep the household financial affairs in his own hand or delegate them to the most deserving from his relatives, that is his wife.

The rights of one’s wife not only include providing food and clothing (etc.), but it also includes to raise her spirits.

Please, note that the scholars (fuqaha) have considered heartening one’s wife to be so important that they have ruled lying to be permissible for this purpose. This proves the enormity and significance of her rights, that Allah condones one of His rights to hearten her.’

Husn al Aziz, Malfuz 355, volume 1, page 66

Excessive desire & preserving the serenity

IMG_1137.JPG

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah mercy on him) said,

‘Permissible sexual desire in excess is detrimental. This is because with this excess the normal composed state vanishes (as one is over aroused sexually). The pious have advised against going to extremes in this regards.

Respected Haji (Imdaullah mohajir Makki) (Allah have mercy on him use to say,
‘As far as possible try not to let go of one’s serenity.
-Even if some one has a small amount of money he should keep it safe and not waste it. This is for the peace of mind.
- Do not succumb to diseases because of negligence (in food or medicine).
- Do not be such audacious and straightforward in speech that others become your enemy and entangle your thoughts (qalb).
In short, in the teachings of respected Haji (Imdadullah mohajir Makki, Allah have mercy on him) there was much emphasis on (preserving) the serenity (jamia’t). He repeatedly instructed that serenity is an immense thing (so preserve it).

‘Imam Ghazali (Allah have mercy on him) has written that the similitude of an individual who is not sick (with an ailment making him sexually impotent) and has stable strength (to maintain such relationship) and then uses aphrodisiac food and medicine to further enhance his sexual powers is like poking asleep snakes and scorpions inviting them to come and bite him.

If someone has a illness than it is a different issue.
Rich individuals are most interested in this.

I have warned about this issue because even permissible excessive sexual desire has a detrimental effect on one’s spirituality (batin).’

Husn al Aziz, Malfuz 442, volume 1, page 55

What to look for in a Shaikh?

IMG_0804.PNG

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) said,

‘The thing to look for in a pious individual (Shaikh) is the proportion of his share in following the example (itiba-e-Sunna) of our master Prophet (Allah have mercy on him).

Anecdotes of unveiling (makashifat) etcetera are all tales of mesmerism. They are are subservient to thinking powers (i.e. Influencing and manipulating another individual’s thought).

The real thing is the degree of following the example of our master Prophet (Allah have mercy on him).

(However) This compatibility (munasebet) with him (our master Prophet (Allah have mercy on him) must be spontaneous and persistent. This is because for a couple of days everyone can feign (to follow).’

Husn al Aziz, Malfuz # 417, volume 1, page 41-2