Category Archive for 'M. اشعار'

گناہ آئینہ عفو و رحمت

گناہ آئینہ عفو و رحمت ست اے شیخ
مبیں بچشم حقارت گنا ہگا ر ا ں را
O (sufi) shaykh!
Sins are like a mirror that reflect the Divine forgiveness and mercy
(if sincere repentance is done) 
 so do not look down upon the sinner with contempt.

اے میرے اللہ میری سن

 
بندہ ہوں تیرا اے میرے اللہ میری سن
فرما دے میرے مقصد قلبی کے لئے کن
ہر غیر کو دل سے میرے معدوم ہی کردے
سب بھول کے لگجاۓ بس اک دل کو تیری دھن
  بابا نجم احسن رح

The gift of mi’raj

 
Arif-billah Shaykh Dr. Abdul Hayy Arifi (may Allah have mercy on him) said,
“No conjecture is possible regarding the degree of extreme nearness to Allah achieved by our Master, Liege-lord and the Leader of both the worlds, The Prophet (Allah’s blessings and peace be upon him) at the night of ascension (al-isra wal-mi’raj). It is beyond the comprehension of […]

کلید کامیابی

 
مجھے پھرغم ہی کیا ہے انکے منہ سے جب یہ سنتا ہوں
 کلید کامیابی ہیں یہی ناکامیاں میری

حضرت عارفی رح
 

ساقیا ! دے شراب ایسی

دے شراب ایسی مجھے اب جلد تر
مست ہوں پینے سے جس کے اس قدر
جس طرف دیکھوں اٹھا کر نظر
کچھ نہ آوے غیر دلبرکے نظر
 غذاۓ روح: حضرت حاجی صاحب رح
 

روۓ زیبا تیرا

اللهم صل صلاة كاملة وسلم سلاما تاما على
 سيدنا ومولانامحمد وعلى اله وصحبه
 فى كل لمحة و نفس بعدد كل معلوم لك
يا الله يا الله ياالله
 

حسن خود حسن ہوا تیرے حسین ہونے سے
روۓ زیبا تیرا زینت زیبائی ہے
مجذوب رح

Love, عشق

Love is the flame which, when it blazes,
consumes everything other than the Beloved.
The lover weilds the sword of Nothingness
in order to dispatch all but God:
consider what remains after Nothing.
There remains but God: all rest is gone.
Praise to you, O mighty Love, destroyer of all other “gods.”
Rumi، رح
Mathnawi V, 588-590

وداع و وصل

وداع و وصل جداگانہ لذ تے دارند
ہزار بار برو ، صد ہزار بار بیا
 

بسیار سفر باید

 
صوفی نشود صافی تا در نکشد جامی
بسیار سفر باید تا پختہ شود خامی  
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ

دعاۓ عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مولانا قاسم نانوتوی رح


دعا

مجھے اپنی الفت کے قابل بنا
سوا اپنے ہر شے کو دل سے بھلا
 حضرت حاجی صاحب رح

لبیک یا عبدی

گفت آں اللہ تو لبیک ما ست
ویں نیاز و سوز دل پیک ما ست
 (تیرا اللہ کہنا ہمارا لبیک ہے (میں حاضر ہوں) اور تیرے دل میں یہ نیاز اور سوز ہمارا قاصد ہے)

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 
جہاں میں کہیں شورِ ماتم بپا ہے
کہیں فقر و فاقہ سے آہ و بکا
کہیں شکوہ جور و مکر و دغا ہے
غرض ہر طرف سےیہی بس صدا ہے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے 
حضرت خواجہ عزیز الحسن مجزوب رحمتہ اللہ

محبت

 نما یاں ہو نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے نہ باتو ں سے
محبت ایک ر ا ز اند ر ر ا ز، اند ر ر ا ز بن جا ۓ
مجذوب رح

جذب عشق محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

یہ جذب عشق محمدی ہے کہ دلوں کو امت کی کھیچتے ہیں
جبھی تو ہر دل کہے ہے ہوکر مضطر چلو مدینے! چلو مدینے! 
حضرت حاجی صاحب رح 

Next »