دعا تو دل کی پکار ہے

——————–

حضرت مولاناابرارالحق صاحب رحمۃ اللہ نے فرمایا

دعا تو دل کی پکار ھے، کوئی ھاتھ پھیلائے زبان سے کھے اور دل کھیں اور ہو تو وہ دعا نھیں ھے، دعا کی صورت ھے۔

اس کی مثال میں عرض کرتا ھوں : ایک شخص نے حاکم کے پاس ایک درخواست لکھی اور وہ بھت عمدہ ٹائپ ھے، کاغذ بھی اچھا ھے، القاب و آداب ھیں، ٹکٹ لگاکر پیش کی، لیکن جب درخواست دینے کا وقت آیا تو حاکم کے سامنے درخواست پیش کی اور منہ پھیر لیا تو کیا ھوگا؟ اس کی درخواست منظور ھو جائے گی؟ یا کھا جائے گا کہ بڑا گستاخ اور بے ادب ھے کہ درخواست حاکم کے سامنے پیش کرنے کا سلیقہ بھی نھیں آتا۔

اسی طرح دعا میں بھی قلب غافل ھے اور دل کھیں اور ھے تو پھر اللہ تعالیٰ کے یھاں ایسی دعا قبول نھیں کی جاتی۔ اس لئے دعا کرے تو دل کو متوجہ رکھے۔

________________

Picture: Mihrab of Masjid Mehdar, Tarim, Yemen

مراتب فنا

 (حضرت مولانا شعیب اللہ خان صاحب مدظلہ(بنگلور، 

 خلیفہ مجاز ہیں حضرت مفتی مظفر حسین رحمۃ اللہ علیہ کے

جو حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے مجاز حضرت اسعداللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔

  

طریقت میں حسن وجمال حبیب

صلی الله علیہ وسلم  

طریقت عروج دل مصطفی
عبادت سے عزت شریعت میں ہے
 محبت کی لذت طریقت میں ہے
 شریعت میں ہے صورت ”فتح بدر
طریقت میں ہے معنی ”شق صدر
 شریعت میں ہے قیل وقال حبیب
طریقت میں حسن وجمال حبیب
نبوت کے اندر ہیں دونوں ہی رنگ
عبث ہے یہ ملا وصوفی کی جنگ

اکبر الہ آبادی رح

Developing congeniality with this path


Shaykh Nawab Eshrat ‘Ali Khan Qaiser (Allah preserve him) instructed,

‘To develop perfect congeniality of this path (tareeq) it essential that senior murid reads the biography of Hakim al-Umma, Ashraf us-Sawanih volume 2, Maasir e Hakim al Ummat and Tarbiyet us Salik. The intention should be to act on the information for his own reformation (islah).

Halaat e Eshrat wa Maktubat e Masih al-ummat ra, page 80