A refreshing dream


A seeker wrote,
Yesterday (21st Ramadan 1411) in the morning I saw you in a dream. I saw that you have received three letters and you are reading them in a way that I can also see part of them. The third letter comes in my hand. I do not remember the contents, however, in the end of it is a couplet written in beautiful calligraphy. The first line is from a famous Persian couplet that I recognized at that time but forgot on waking up. The meaning of second line that this lowly one understood in the dream was,
Respected Khawaja Moinuddeen (Chishti, Ajmeri, Allah have mercy on him) is present in the form of Mohammad Taqi.
And after your name is written عليه السلام.

Sayyidi wa sanadi Shaikh Mufti Mohammad Taqi Usmani (Allah protect him) replied,
‘Insha Allah it is a blessed (mubarak) dream.
May Allah give its blessed affects to you and me.

This is a good tiding (basharet) for creating joy in (spiritual) actions and to be taken as a good omen. However, the real criteria (for deserving Allah’s pleasure) are the actions done while awake.’

Islahi khutoot, qalmi

Daily poor quality ma’molaat


A seeker wrote,
All praise is for Allah, the daily virtuous activities (ma’molaat) are being carried out punctually, however, their quality remains poor.

Sayyidi wa sanadi Shaikh Mufti Taqi Usmani (Allah keep him safe, healthy and in ‘afiyah) replied,
‘Carrying them out punctually is a great blessing in itself. Be thankful (to Allah) for it.
Moreover, the feeling of them being of poor quality is another blessing. Be thankful for it also. And ask forgiveness (from Allah for all the deficiencies).’

Islahi khutoot, qalmi

Writing everything to shaykh


A spiritual aspirant wrote:
When writing letter and describing my progress on daily mamoolat, acting on advise of Hazrat e wala db sometime it feels it is riya (ostentation). Please advise if writing everything in black and white to shaykh is correct? Jazaak Allah

Sayyidi wa sanadi Hazrat Moulana Mohammad Taqi Usmani sahib (Allah SWT preserve him and allow us to benefit from him abundantly. Ameen) replied:
“It is correct. It is not riya (ostentation).”

Meraj us Salikeen: Islahi Khutoot #6


Writing blame worthy morals to shaykh


A spiritual aspirant wrote:
I read in Basair Hakeem ul Umma ra that one should write to his shaykh one issue at a time and get advise on its cure. I don’t know where to start for myself, as I see I have too many issues to mention. Where should I start? Please advise. Jazaak Allah

Sayyidi wa sanadi Hazrat Moulana Mohammad Taqi Usmani sahib (Allah SWT preserve him and allow us to benefit from him abundantly. Ameen) replied:
“You have written about anger. Now start writing about other issues one by one. When writing an issue, please describe the incident due to which you suspect it is a blame worthy moral.”

Meraj us Salikeen: Islahi Khutoot #6

Salah in congregation


In Radd al-Muhtar it states:
“The totality of excuses which has passed in the text and commentary are twenty which I versified in my saying:

The excuses of leaving out jamā‘ah are twenty which indeed I have inserted in the arrangement of verses like pearls:
Sickness, infirmity, blindness, being crippled
Rain, muddy ground then coldness that causes harm, Amputation of a leg with a hand or within them
Paralysis, an old man’s weakness and the intention to travel,
Fear of wealth, likewise of an oppressor
Or creditor, and desire to eat food that is present,
Wind at night, darkness, nursing a person with Sickness, the compulsion of urine or faeces,
Then, occupation with nothing besides knowledge
in Some situations is an excuse that is considered.” (1:581)

Darul Ma’arif

Desire, deception and ignorance


Shaikh Ma’ruf al Karkhi (Allah have mercy on him) said,

‘Desiring Paradise without performing good deeds is from sinful actions.
And to expect intercession without means is a form of deception.
Moreover, without performance of virtuous deed expecting mercy (of Allah) is ignorance and stupidity.’

Eqaz al Himam, page 300 (Urdu)

المعراج السالكين: قصه بيعت


بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

الحمداللہ آپکی دعاوں اور کوششوں سے احقر کو حضرت والا سيدى و سندى مفتى محمد تقى عثماني دامت برکاتہم سے بیعت کی سعادت حاصل ہوگئی ہے۔ اس نعمت پر اللہ سبحانہ تعالی کا جتنا شکرادا کیا جائے کم ہے۔ ساتھ ساتھ احقر تہ دل سا آپ کا مشکور ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی آپکو اس کا اجر عظیم عطا فرما ئے۔ امین

اردو میں خط اس لئے لکھ رہاہوں کہ مجھے لگا کہ اس طرح سے احقر اپنا مافی الضمیرزیادہ بہتر طریقہ پر بیان کرسکو نگا۔ اللہ سبحانہ تعالی آسان فرمائے۔ آمین

کل آپ کے جانے کے بعد، احقر نے کچھ دیراور انتظار کیا اور جب حضرت والا دامت برکاتہم نماز سے فارغ ہوئے تو احقر ان سے ملا اور بتایا کہ حضرت والا دامت برکاتہم نے آج مغرب کے بعد بیعت کے لئے فرمایا تھا۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے آئیے میرے ساتھ۔ میں ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، راستے میں کچھہ اور لوگ بھی حضرت والا دامت برکاتہم سے مصافحہ کرتے رہے۔ جب ھم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت والا دامت برکاتہم کے جوتے وہاں نہیں تھے۔ گارڈ نے اندر بھی دیکھا اور دوسرے دروازے پر بھی دیکھا لیکن نہیں ملے۔ معلوم ہوا کسی طالب علم نے لئے تھے اور اب پتا نہیں کہاں رکھے تھے۔ حضرت والا دامت برکاتہم اس دوران وہیں دراوزے پر کھڑے انتظار فرماتے رہے۔ ہم لوگوں نے جو وہاں موجود تھے، حضرت والا دامت برکاتہم سے عرض کیا کہ ہمارے جوتے پہن لیں۔ لیکن حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اپ لوگ وہاں تک کیسے جائینگے، میرے تو پھر بھی جرابیں ہیں، اس لئے میں ایسے ہی چلتاھوں۔ حضرت والا دامت برکاتہم جانے لگے تو دارالعلوم کے ایک ملازم اگئے جنہوں نے اپنے جوتے پیش کئے جو حضرت والا دامت برکاتہم نے پہن لئے اور ان میں گھر تشریف لے گئے۔

گھرپہنچ کرحضرت والا دامت برکاتہم نے احقر کو بھی اندربلوالیا اور فرمایا کہ دروازہ کھلواتے ہیں۔ دروازہ کھلوانے کے بعد پہلے حضرت والا دامت برکاتہم نے وہ جوتے جن کے تھے وہ واپس کئے اور اتنی دیر میں معلوم ہوا کہ وہ دوسرے جوتے بھی مل گئے ہیں جو کسی دیوار یا پلر کے پاس کہیں رکھ دئے گئے تھے۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے احقر کو فرمایا کہ آیئےتشریف رکھیے۔

زمین پر حضرت والا دامت برکاتہم خود بھی تشریف فرما ہوئے اوراحقر بھی بیٹھ گیا۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ” بھئی یہ تو معلوم ہوگا کہ بیعت کوئی فرض و واجب تو ہے نہیں، مسنون ہے۔ اوراحقراپنے بزرگوں کے حکم سے بیعت کرلیتاھوں۔ توآپ کو بیعت کرلونگا۔ تعلیم کے لئے جیسا ابھی آپ ڈاکٹر صاحب سے تربیت لے رہے ہیں، وہ لیتے رہیں اور اگر کہیں ضرورت ہو تو مجھ سے بھی پوچھ لیا کریں۔” پھر فرمایا ” کہ اب میں پہلے خطبہ پڑہونگا، پھر اپنے ہاتھ جب آپکی طرف بڑھادوں تو اپنے ہاتھوں کو میرے ھاتھوں میں دے دیجگا اور جو میں کہوں وہ میرے ساتھ دھراتے رہیں ۔” اس دوران جب حضرت والا دامت برکاتہم یہ فرماتے رہے توجہاں حضرت والا دامت برکاتہم استفسار احقر سے فرماتے تھے تو احقر جی، جی عرض کرتا رہے۔ اب حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ شروع فرمایا:
اول – حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھا جو حضرت والا دامت برکاتہم اپنے وعظ سے پہلے پڑھتے ہیں۔
دوم – حضرت والا دامت برکاتہم نے قران شریف کی کچھ آیتیں پڑھیں۔ جن میں کچھ ابھی احقر کو یاد ہے کچھ انشااللہ جب کہیں دیکھوں گا تویادآجائیگا۔ جو ابھی یاد ہے وہ یہ ہیں: وجاھدوفینالنھدینھم سبلنا اور کونومع الصادقین کی پوری آیتیں۔
سویم – ایک آیت پر جب حضرت والا دامت برکاتہم پہنچے تو حضرت والا دامت برکاتہم نے اپنے مبارک ہاتھ آگے بڑھادیے۔ احقر نے اپنے ھاتھ حضرت والا دامت برکاتہم کے مبارک ہاتھوں میں دے دئیے۔ اب حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ” میں بیعت (داخل) ہوتا ہوں چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور قادریہ سلسلے میں بواسطہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مسیح اللہ خان رحمتہ اللہ علیہ۔ میں توبہ کرتا ہے ھر قسم کے گناہ سے، کقروشرک سے، بدعت و برائی سے۔ اور عہد کرتا ہوں کہ اگر کھبی کوئی غلطی ہوجائے تو اسکا تدارک کرونگا۔ اور میں ایمان لایا اللہ پر، اسکے ملایئکہ پر، رسولوں پر، اچھی اور بری تقدیر پر اور قیامت کےدن دوبارہ زندہ ہونے پر۔”
چہارم – اسکے بعد حضرت والا دامت برکاتہم نے استقامت اور برکت کی دعا فرمائ۔

جب احقر جانے لگا تو ایک بار پھرمصافحہ فرمایا اور احقر نے عرض کیا کہ حضرت دعا کی خصوصی درخواست ہےاور ساتھ میں یہ بھی عرض کیا کہ میں آفس میں حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کرسکتا ہوں۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا ” ضرور”۔

اب احقر اپنے تاثرات بیان کرتا ہے۔ ہفتے کے دن جب حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مغرب کے بعد مل لیجیئے گا تو تب سے ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ ھر گزرتے لمحے کیساتھ اس میں اضافہ ہورہا تھا کہ احقر کو بھی یہ سعادت مل جائیگی، ساتھ میں جیسا آپ نے فرمایا تھا ویسی ہی اخلاص کی دعا بھی مانگ رہا تھا۔ پھر اتوارکے دن جب حضرت والا دامت برکاتہم سے ملا اور حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ آئیے میرے ساتھ تو بلکل ہی ایک عجیب سا حال رہا۔ اسکے بعد جب باقاعدہ بیعت کا مرحلہ شروع ہوا تو اس وقت کی کیفیات کا بیان نہیں ھوسکتا۔ بس دل ہی دل میں اللہ سبحانہ تعالی سے استقامت کی دعائیں مانگتا رہا اورسوچتا رہا کی اللہ سبحانہ تعالی اس نسبت کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

باقی احقرجو حضرت والا دامت برکاتہم کو ہمیشہ دیکھتا رہا ہے، وہ ہے حضرت والا دامت برکاتہم کی تواضع۔ ایک طرف تو حضرت والا دامت برکاتہم کا بے تحاشہ رعب دل پر رہتا ہے اور ایک طرف جب حضرت والا دامت برکاتہم کچھ فرماتے ہیں تو مسکرا کر اور بہت ہی نرم وخوبصورت لہجے میں، کہ دل قربان ہوجاتا ہے۔ بس یہی دعائیں دل سے نکل رہی تھی، کہ یااللہ، تو حضرت والا دامت برکاتہم اور ڈاکٹرصاحب دامت برکاتہیم کی اس نسبت کی قدردانی کی توفیق عطا فرما اور جو اس تعلق کا حق ہے وہ تو میں ادا نہیں کرسکتا لیکن اپنی مقدور بھر کوشش کی توفیق ضرورعطا فرما اوراس میں سستی سے محفوظ فرما۔ آمین۔

اوپر جو کچھ احقر نے بیان کیا ہے، یہ محض اپنے حا فظہ سے بیان کیا ہے، لہذا اس میں کچھ الفاظ میں کمی بیشی ھوسکتی ہے جو مجھے یاد نہ رہے ہوں لیکن مفہوم کم و بیش یہی تھا۔

آخر میں احقرآپ سے بھی دست بدستہ دعاوں کی درخواست کرتا ہے، احقر کو جو کچھ بھی مل رہے وہ اپ ہی کی برکت اور بدولت ہے ورنہ ادھر تو کچھ بھی نہیں ہے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر نفس و شیطان کے حوالے کرچکا تھا۔ اللہ سبحانہ تعالی مجھے اس نسبت اور تعلق کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت کی رسوائی سے بچائے ۔ آمین۔

اللہ سبحانہ تعالی حضرت والا دامت برکاتہم اور آپکی عمر، علم اور وقت میں خصوصی برکتیں نازل فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین

محتاج دعا

٢٥ اكست ٢٠١٤

٢٨ شوال ١٤٣٥

An important reminder


Sayyidi wa sanadi Mufti Mohammad Taqi Usmani (Allah preserve him) usually instructs a novice traveller (salik) on this path to read the published lecture series ‘Islahi Khutbaat’ and ‘Islahi majalis’. After reading a substantial amount from them he should focus on the discourses and malfuzat of Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) for the rest of his life.

It is essential to pay attention to this advice.

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) is the mujaddid of the path we follow. The Ashrafiya path. Reading his works in original is imperative to gain the insight for the experiential knowledge of Allah ( al marifah) sought by those on this path.

We are from the third or fourth generation after Hakim al Umma. Our Shuyukh have kindly paraphrased and simplified those teachings according to our understanding. However, these are the initial stepping stones to the original text.

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) has himself mentioned the benefit of the original text in his malfuzat. Acknowledging them as a gift from Allah, he said that these are Divinely inspired words and therefore most beneficial is one’s islah.

The most common excuse we have is that our comprehension skills for Urdu reading are poor. This is an area we need to improve. Moreover, present day Mashaikh are requested to read to their audience from the original texts of Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) and explain or translate if necessary.

This is important to inherit from the spiritual legacy of Ashrafiya path.

May Allah facilitate this for all of us. Amin!

Facilitation of nisbet e batini


Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) said,

‘It is due to the Shaikh (1) that acquisition of nisbet e batini is facilitated. Alone hundreds of years of spiritual struggle maybe needed to acquire it.

This nisbet e batini is a gift from Allah. The spiritual struggle is required for it but it is not the reason d’être for it.
Even if it (is considered to be a) a cause then it is a commonly occurring (result) and not the real one.’

Husn al Aziz, Malfuz # 459, volume 1, page 83

(1) His guidance and barakah.

Means of acquiring Tasawwuf


Shaikh Junaid Baghdadi (Allah have mercy on him) said,

‘We did not acquire Tasawwuf by discussions or argumentations.

In reality we acquired it by going hungry (1), keeping awake (2) and being persistent in our actions (3).’

Eqaz al Himam, Urdu, page 332

(1) From all that is impermissible or suspicious or causes laziness.
(2) In acquiring knowledge, performing tahajjud, remembrance of Allah and intimate conversation with Allah
(3) Performance of good and abstinence from sinful deeds, both physical and that of qalb