Category Archives: U. Urdu

سیدی و سندی مدظلہ كےاصلاحی بیانات رمضان المبادك ١٤٣١

ا۔ ذکر کے فوائد

ب۔ ذکر حضور قلب کا نام ھے

ج۔ اعمال ظاھر و باطنہ

د۔ عشرہ اخیرہ و اھتمام توبہ

ذ۔ خشوع کے درجے

خشوع کے درجے- ٢

خشوع کے درجے٣

اخلاص کی حقیقت ١


اخلاص کی حقیقت – ٢

ضرورت صحبت اھل اللہ

_________

حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ھردوئی رحمہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ

بعض وقت روشنی ھے علم ھے یقین ھے مگر عمل کی قوت نھیں ھوتی

مثلاً کمرے میں روشنی ھے اور الماری میں سیب نظر آرھا ھے اور اس کے وجود اور نافع ھونے پر یقین بھی ھے۔

ڈاکٹروں نے اس کو کھانے کے لئے حکم بھی دیا ھوا ھے اور دل بھی چاھتا ھے

مگرسیب تک اٹھ کرجانے کی قوت نھیں ھوتی،

پھر ڈاکٹر طاقت کا انجکشن لگاتا ھے اور وٹامن کے کیپسول کھلاتا ھے جب طاقت آجاتی ھے تو خود اٹھ کر الماری تک جاکر سیب کھاتاھے

یھی حال ان اھل علم کا ھے کہ علم کی روشنی بھی ھے یقین بھی ھے مگر عمل کی قوت نھیں ھے۔

اللہ والوں کی صحبت میں آنے جانے سے کچھ ھی دن میں قوت آنی شروع ھوجاتی ھے اور اعمال میں ترقی شروع ھو جاتی ھے

________

مجالس ابرار ج:۲،ص:۹۶

_______

________

حقوق والدین

 

عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا،

‘ہم پر اللہ تعالی نے اپنے حقوق کے بعد والدین کے حقوق واجب فرماۓ ہیں۔

انہوں نے پالا ، پرورش کی، دعائیں کیں، راحت پہنچائی اور جب تک تم بالغ نہیں ہوۓ تمہارے کفیل رہے۔

اور جب تم بالغ ہوۓ تو تم نے ان کی کیا خدمت کی ہوگی؟

 دیکھو جتنا سرمایا ہے اپنے زندگی بھر کے اعمال حسنہ کا اور طاعات نافلہ کا سب نذر کر دو اپنے والدین کو،

 ان کو بہت بڑا حق ہے، کیونکہ والدین کو اللہ تعالی نے مظہر ربوبیت بنایا ہے۔

 اس عمل خیر کا ثواب تمہیں بھی اتنا ملے گا جتنا دے رہے ہو،

بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ یہ تمہارا ایثار ہے اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔

میں تو اپنی ساری عمر کی تمام عبادات و طاعات نافلہ اور اعمال خیر اپنے والدین کی روح پر بخش دیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اب بھی حق ادا نہیں ہوا۔ اللہ تعالی اپنی رحمت واسعہ سے قبول فرمالیں۔ 

 (رمضان المبارک کے انوار و برکات، ص 14)

معطر روح ومنور چشم

gumbdekhizra1

_____________________

صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم

—————————

یا اللہ جل جلالہ

کر معطر روح کو، بوۓ محمد سے مری

اورمنور چشم کر، روۓ محمد سے مری

_______________________

صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم

آمیں

منظوم شجرہ سلسلہ چشتیہ امدادیہ اشرفیہ/مناجات مقبول

حیرت عشق

مَنَم محوِ جمالِ اُو، نمی دانم کُجا رفتم

شُدَم غرقِ وصالِ اُو، نمی دانم کجا رفتم
میں اسکے جمال میں محو ھوں اور نھیں معلوم کھاں جا رھا ھوں، بس اُسی کے وصال میں غرق ھوں اور نھیں جانتا کھاں جا رھا ھوں۔

غلامِ روئے اُو بُودَم، اسیرِ بُوئے اُو بودم

غبارِ کوئے اُو بودم، نمی دانم کجا رفتم
میں اس کے چھرے کا غلام ھوں، اسکی خوشبو کا اسیر ھوں، اسکے کُوچے کا غبار ھوں، اور نھیں جانتا کھاں جا رھا ھوں۔

بہ آں مہ آشنا گشتم، ز جان و دل فدا گشتم

فنا گشتم فنا گشتم، نمی دانم کجا رفتم
اُس ماہ رُو کا آشنا ھو کر گھومتا ھوں، جان و دل فدا کیے ھوئے گھومتا ھوں، خود کو فنا کیے ھوئے گھومتا ھوں اور نھیں جانتا کھاں جا رھا ھوں۔

شدم چوں مبتلائے اُو، نھادم سر بہ پائے اُو

شدم محوِ لقائے او، نمی دانم کجا رفتم
میں اس کے عشق میں ایسے مبتلا ھوں کہ اس کے پاؤں پر سر رکھے ھوں اور ھمہ وقت اسکے دیدار میں محو اور نھیں جانتا کھاں جا رھا ھوں۔

قلندر بُوعلی ہستم، بنامِ دوست سرمستم

دل اندر عشقِ اُو بستم، نمی دانم کجا رفتم
میں(شیخ) بُو علی قلندر(رحمة اللہ علیہ) ھوں اور دوست کے نام پر سرمست ھوں اور میرے دل میں بس اُسی کا عشق ھے، اور نھیں جانتا کھاں جا رھا ھوں۔

Source:

صریرِ خامۂ وارث

حیرانگی عاشق

دلے یا دلبرے، یا جاں و یا جاناں، نمی دانم
ھمہ ھستی تو ای فی الجملہ ایں و آں نمی دان
م

تُو دل ھے یا دلبر، تُو جان ھے یا جاناں، میں نہیں جانتا۔ ھر ہستی و ھر چیز تو تُو ھی ھے، میں یہ اور وہ کچھ نھیں جانتا۔

بجز تو در ھمہ عالم دگر دلبر نمی دانم
بجز تو در ھمہ گیتی دگر جاناں نمی دانم

سارے جھان میں تیرے علاوہ میں اور کسی دلبر کو نھیں جانتا، ساری دنیا میں تیرے علاوہ میں اور کسی جاناں کو نھیں پھچانتا۔

بجز غوغائے عشقِ تو، درونِ دل نمی یابم
بجز سودائے وصلِ تو، میانِ جاں نمی دانم

تیرے عشق کے جوش و خروش کے علاوہ میں اپنے دل میں کچھ اور نھیں پاتا، تیرے وصل کے جنون کے علاوہ میں اپنی جان میں کچھ اور نھیں دیکھتا۔

مرا با توست پیمانے، تو با من کردہ ای عھدے
شکستی عھد، یا ھستی بر آں پیماں؟ نمی دانم

میرے ساتھ تیرے پیمان ہیں اور تو نے میرے ساتھ عھد کیے، تُو نے اپنے عھد توڑ دیے یا ابھی تک انھی پر ھے، میں کچھ نھیں جانتا، یعنی مجھے اس سے غرض نھیں ھے، عشق میں عھد و پیمان کچھ معنی نہیں رکھتے۔

بہ اُمّیدِ وصالِ تو دلم را شاد می دارم
چرا دردِ دلِ خود را دگر درماں نمی دانم؟

تیرے وصال کی امید سے اپنے دل کو شاد رکھتا ھوں، میں اسی لیے اپنے دل کے درد کیلیے کوئی اور درمان نھیں ڈھونڈتا، یعنی صرف اور صرف تیرے وصل کی امید ھی دردِ دل کا پھلا اور آخری علاج ھے۔

نمی یابم تو را در دل، نہ در عالم، نہ در گیتی
کجا جویم تو را آخر منِ حیراں؟ نمی دانم

مجھ (ھجر کے مارے) کو نہ تُو دل میں ملتا ھے اور نہ جھان و کائنات میں، میں حیران (و پریشان) نہیں جانتا کہ آخر تجھ کو کھاں ڈھونڈوں؟ شاعر کا حیران ھونا ھی اس شعر کا وصف ھے کہ یھیں سے سارے راستے کھلیں گے۔

عجب تر آں کہ می بینم جمالِ تو عیاں، لیکن
نمی دانم چہ می بینم منِ ناداں؟ نمی دانم

یہ بھی عجیب ھے کہ تیرا جمال ھر سُو اور ھر طرف عیاں دیکھتا ہوں، اور میں نادان یہ بھی نھیں جانتا کہ کیا دیکھ رھا ھوں۔

ھمی دانم کہ روز و شب جھاں روشن بہ روئے توست
و لیکن آفتابے یا مہِ تاباں؟ نمی دانم

یہ جانتا ھوں کہ جہان کے روز و شب تیرے ھی جمال سے روشن ھیں لیکن یہ نھیں جانتا کہ تو سورج ھے یا تابناک چاند۔

بہ زندانِ فراقت در عراقی پائے بندم شد
رھا خواھم شدن یا نے؟ ازیں زنداں، نمی دانم

شیخ فخرالدین )عراقی (رحمة اللہ علیہ) کے پاؤں ھجر کے قید خانے میں بندھے ھوئے ھیں، اور اس قید سے رھا ہونا بھی چاھتا ہوں یا نھیں، نھیں جانتا۔

Source:

صریرِ خامۂ وارث