Category Archives: D. Acts of Worship

Various acts of devotion to show our servitude

The most superior karamet

IMG_2421.JPG

It was reported that an individual walks on (flowing) water.

Shaikh Abu Mohammad Murtaish (Allah have mercy on him) replied,

‘I consider that the person who has been blessed by Allah to be steadfast against his (sinful) desires is most upright and superior to the individual who walks on water and flies in the air.

And (remember) action against one’s desire is only by asceticism (zuhud) and diverting one’s attention away from all (worldly) things.’

Eqaz al Himam, volume 1, page 369

Priorities in islah

IMG_2817.PNG

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi ( Allah have mercy on him) said,

‘The pious (masters) do not focus excessively on the exoteric actions (dhahiri a’mal). This is because they can be rectified in a moment merely by changing one’s determination. That is, an individual who does not pray can (make a firm determination) in a moment and start praying, one who shaves his beard can (make a firm determination) in a moment and let it grow. Similarly, in a moment an alcoholic can repent from drinking and a transgressor (fasiq fajir) becomes God-fearing.

The important thing that the pious focus on is the rectification of the moral characteristics (ikhlaq e batinah), like arrogance (kibr) etc.. The rectification of these is very difficult.’

Husn al-Aziz, Malfuzat e Hakim al Umma ra, volume 17, page 284

Hajj & sacrifice: A Divine order

IMG_1205.JPG

Sayyidi wa sanadi Mufti Taqi Usmani (Allah preserve him) said,

‘It is futile to look for worldly benefits and logical explanations in Hajj and sacrifice (udhiya/qurbani).

They are a Divine orders to remind us that we have to follow them irrespective of understanding them in itself or their benefits.

The Divine order requires submission. And this is Islam as defined in Quran,

IMG_2734.PNG

[37:103]
So, (it was a great episode) when both of them submitted themselves (to Allah’s will), and he laid him on his forehead (to slaughter him),

Waaz: 27/9/2104, Darul Uloom Karachi

Daily poor quality ma’molaat

IMG_2421-0.JPG

A seeker wrote,
All praise is for Allah, the daily virtuous activities (ma’molaat) are being carried out punctually, however, their quality remains poor.

Sayyidi wa sanadi Shaikh Mufti Taqi Usmani (Allah keep him safe, healthy and in ‘afiyah) replied,
‘Carrying them out punctually is a great blessing in itself. Be thankful (to Allah) for it.
Moreover, the feeling of them being of poor quality is another blessing. Be thankful for it also. And ask forgiveness (from Allah for all the deficiencies).’

Islahi khutoot, qalmi

Salah in congregation

IMG_1156.JPG

In Radd al-Muhtar it states:
“The totality of excuses which has passed in the text and commentary are twenty which I versified in my saying:

The excuses of leaving out jamā‘ah are twenty which indeed I have inserted in the arrangement of verses like pearls:
Sickness, infirmity, blindness, being crippled
Rain, muddy ground then coldness that causes harm, Amputation of a leg with a hand or within them
Paralysis, an old man’s weakness and the intention to travel,
Fear of wealth, likewise of an oppressor
Or creditor, and desire to eat food that is present,
Wind at night, darkness, nursing a person with Sickness, the compulsion of urine or faeces,
Then, occupation with nothing besides knowledge
in Some situations is an excuse that is considered.” (1:581)

Darul Ma’arif

Desire, deception and ignorance

IMG_1148.JPG

Shaikh Ma’ruf al Karkhi (Allah have mercy on him) said,

‘Desiring Paradise without performing good deeds is from sinful actions.
And to expect intercession without means is a form of deception.
Moreover, without performance of virtuous deed expecting mercy (of Allah) is ignorance and stupidity.’

Eqaz al Himam, page 300 (Urdu)

المعراج السالكين: قصه بيعت

IMG_0011.JPG

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

حضرت ڈاکٹرصاحب دامت برکاتہم

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

الحمداللہ آپکی دعاوں اور کوششوں سے احقر کو حضرت والا سيدى و سندى مفتى محمد تقى عثماني دامت برکاتہم سے بیعت کی سعادت حاصل ہوگئی ہے۔ اس نعمت پر اللہ سبحانہ تعالی کا جتنا شکرادا کیا جائے کم ہے۔ ساتھ ساتھ احقر تہ دل سا آپ کا مشکور ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی آپکو اس کا اجر عظیم عطا فرما ئے۔ امین

اردو میں خط اس لئے لکھ رہاہوں کہ مجھے لگا کہ اس طرح سے احقر اپنا مافی الضمیرزیادہ بہتر طریقہ پر بیان کرسکو نگا۔ اللہ سبحانہ تعالی آسان فرمائے۔ آمین

کل آپ کے جانے کے بعد، احقر نے کچھ دیراور انتظار کیا اور جب حضرت والا دامت برکاتہم نماز سے فارغ ہوئے تو احقر ان سے ملا اور بتایا کہ حضرت والا دامت برکاتہم نے آج مغرب کے بعد بیعت کے لئے فرمایا تھا۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے آئیے میرے ساتھ۔ میں ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، راستے میں کچھہ اور لوگ بھی حضرت والا دامت برکاتہم سے مصافحہ کرتے رہے۔ جب ھم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت والا دامت برکاتہم کے جوتے وہاں نہیں تھے۔ گارڈ نے اندر بھی دیکھا اور دوسرے دروازے پر بھی دیکھا لیکن نہیں ملے۔ معلوم ہوا کسی طالب علم نے لئے تھے اور اب پتا نہیں کہاں رکھے تھے۔ حضرت والا دامت برکاتہم اس دوران وہیں دراوزے پر کھڑے انتظار فرماتے رہے۔ ہم لوگوں نے جو وہاں موجود تھے، حضرت والا دامت برکاتہم سے عرض کیا کہ ہمارے جوتے پہن لیں۔ لیکن حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اپ لوگ وہاں تک کیسے جائینگے، میرے تو پھر بھی جرابیں ہیں، اس لئے میں ایسے ہی چلتاھوں۔ حضرت والا دامت برکاتہم جانے لگے تو دارالعلوم کے ایک ملازم اگئے جنہوں نے اپنے جوتے پیش کئے جو حضرت والا دامت برکاتہم نے پہن لئے اور ان میں گھر تشریف لے گئے۔

گھرپہنچ کرحضرت والا دامت برکاتہم نے احقر کو بھی اندربلوالیا اور فرمایا کہ دروازہ کھلواتے ہیں۔ دروازہ کھلوانے کے بعد پہلے حضرت والا دامت برکاتہم نے وہ جوتے جن کے تھے وہ واپس کئے اور اتنی دیر میں معلوم ہوا کہ وہ دوسرے جوتے بھی مل گئے ہیں جو کسی دیوار یا پلر کے پاس کہیں رکھ دئے گئے تھے۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے احقر کو فرمایا کہ آیئےتشریف رکھیے۔

زمین پر حضرت والا دامت برکاتہم خود بھی تشریف فرما ہوئے اوراحقر بھی بیٹھ گیا۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ” بھئی یہ تو معلوم ہوگا کہ بیعت کوئی فرض و واجب تو ہے نہیں، مسنون ہے۔ اوراحقراپنے بزرگوں کے حکم سے بیعت کرلیتاھوں۔ توآپ کو بیعت کرلونگا۔ تعلیم کے لئے جیسا ابھی آپ ڈاکٹر صاحب سے تربیت لے رہے ہیں، وہ لیتے رہیں اور اگر کہیں ضرورت ہو تو مجھ سے بھی پوچھ لیا کریں۔” پھر فرمایا ” کہ اب میں پہلے خطبہ پڑہونگا، پھر اپنے ہاتھ جب آپکی طرف بڑھادوں تو اپنے ہاتھوں کو میرے ھاتھوں میں دے دیجگا اور جو میں کہوں وہ میرے ساتھ دھراتے رہیں ۔” اس دوران جب حضرت والا دامت برکاتہم یہ فرماتے رہے توجہاں حضرت والا دامت برکاتہم استفسار احقر سے فرماتے تھے تو احقر جی، جی عرض کرتا رہے۔ اب حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ شروع فرمایا:
اول – حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھا جو حضرت والا دامت برکاتہم اپنے وعظ سے پہلے پڑھتے ہیں۔
دوم – حضرت والا دامت برکاتہم نے قران شریف کی کچھ آیتیں پڑھیں۔ جن میں کچھ ابھی احقر کو یاد ہے کچھ انشااللہ جب کہیں دیکھوں گا تویادآجائیگا۔ جو ابھی یاد ہے وہ یہ ہیں: وجاھدوفینالنھدینھم سبیلنا اور کونومع الصادقین کی پوری آیتیں۔
سویم – ایک آیت پر جب حضرت والا دامت برکاتہم پہنچے تو حضرت والا دامت برکاتہم نے اپنے مبارک ہاتھ آگے بڑھادیے۔ احقر نے اپنے ھاتھ حضرت والا دامت برکاتہم کے مبارک ہاتھوں میں دے دئیے۔ اب حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ” میں بیعت (داخل) ہوتا ہوں چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور قادریہ سلسلے میں بواسطہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مسیح اللہ خان رحمتہ اللہ علیہ۔ میں توبہ کرتا ہے ھر قسم کے گناہ سے، کقروشرک سے، بدعت و برائی سے۔ اور عہد کرتا ہوں کہ اگر کھبی کوئی غلطی ہوجائے تو اسکا تدارک کرونگا۔ اور میں ایمان لایا اللہ پر، اسکے ملایئکہ پر، رسولوں پر، اچھی اور بری تقدیر پر اور قیامت کےدن دوبارہ زندہ ہونے پر۔”
چہارم – اسکے بعد حضرت والا دامت برکاتہم نے استقامت اور برکت کی دعا فرمائ۔

جب احقر جانے لگا تو ایک بار پھرمصافحہ فرمایا اور احقر نے عرض کیا کہ حضرت دعا کی خصوصی درخواست ہےاور ساتھ میں یہ بھی عرض کیا کہ میں آفس میں حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کرسکتا ہوں۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا ” ضرور”۔

اب احقر اپنے تاثرات بیان کرتا ہے۔ ہفتے کے دن جب حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مغرب کے بعد مل لیجیئے گا تو تب سے ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ ھر گزرتے لمحے کیساتھ اس میں اضافہ ہورہا تھا کہ احقر کو بھی یہ سعادت مل جائیگی، ساتھ میں جیسا آپ نے فرمایا تھا ویسی ہی اخلاص کی دعا بھی مانگ رہا تھا۔ پھر اتوارکے دن جب حضرت والا دامت برکاتہم سے ملا اور حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ آئیے میرے ساتھ تو بلکل ہی ایک عجیب سا حال رہا۔ اسکے بعد جب باقاعدہ بیعت کا مرحلہ شروع ہوا تو اس وقت کی کیفیات کا بیان نہیں ھوسکتا۔ بس دل ہی دل میں اللہ سبحانہ تعالی سے استقامت کی دعائیں مانگتا رہا اورسوچتا رہا کی اللہ سبحانہ تعالی اس نسبت کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

باقی احقرجو حضرت والا دامت برکاتہم کو ہمیشہ دیکھتا رہا ہے، وہ ہے حضرت والا دامت برکاتہم کی تواضع۔ ایک طرف تو حضرت والا دامت برکاتہم کا بے تحاشہ رعب دل پر رہتا ہے اور ایک طرف جب حضرت والا دامت برکاتہم کچھ فرماتے ہیں تو مسکرا کر اور بہت ہی نرم وخوبصورت لہجے میں، کہ دل قربان ہوجاتا ہے۔ بس یہی دعائیں دل سے نکل رہی تھی، کہ یااللہ، تو حضرت والا دامت برکاتہم اور ڈاکٹرصاحب دامت برکاتہیم کی اس نسبت کی قدردانی کی توفیق عطا فرما اور جو اس تعلق کا حق ہے وہ تو میں ادا نہیں کرسکتا لیکن اپنی مقدور بھر کوشش کی توفیق ضرورعطا فرما اوراس میں سستی سے محفوظ فرما۔ آمین۔

اوپر جو کچھ احقر نے بیان کیا ہے، یہ محض اپنے حا فظہ سے بیان کیا ہے، لہذا اس میں کچھ الفاظ میں کمی بیشی ھوسکتی ہے جو مجھے یاد نہ رہے ہوں لیکن مفہوم کم و بیش یہی تھا۔

آخر میں احقرآپ سے بھی دست بدستہ دعاوں کی درخواست کرتا ہے، احقر کو جو کچھ بھی مل رہے وہ اپ ہی کی برکت اور بدولت ہے ورنہ ادھر تو کچھ بھی نہیں ہے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر نفس و شیطان کے حوالے کرچکا تھا۔ اللہ سبحانہ تعالی مجھے اس نسبت اور تعلق کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت کی رسوائی سے بچائے ۔ آمین۔

اللہ سبحانہ تعالی حضرت والا دامت برکاتہم اور آپکی عمر، علم اور وقت میں خصوصی برکتیں نازل فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین

محتاج دعا

Means of acquiring Tasawwuf

IMG_1092.JPG

Shaikh Junaid Baghdadi (Allah have mercy on him) said,

‘We did not acquire Tasawwuf by discussions or argumentations.

In reality we acquired it by going hungry (1), keeping awake (2) and being persistent in our actions (3).’

Eqaz al Himam, Urdu, page 332

(1) From all that is impermissible or suspicious or causes laziness.
(2) In acquiring knowledge, performing tahajjud, remembrance of Allah and intimate conversation with Allah
(3) Performance of good and abstinence from sinful deeds, both physical and that of qalb

What to look for in a Shaikh?

IMG_0804.PNG

Hakim al Umma Maulana Ashraf Ali Thanvi (Allah have mercy on him) said,

‘The thing to look for in a pious individual (Shaikh) is the proportion of his share in following the example (itiba-e-Sunna) of our master Prophet (Allah have mercy on him).

Anecdotes of unveiling (makashifat) etcetera are all tales of mesmerism. They are are subservient to thinking powers (i.e. Influencing and manipulating another individual’s thought).

The real thing is the degree of following the example of our master Prophet (Allah have mercy on him).

(However) This compatibility (munasebet) with him (our master Prophet (Allah have mercy on him) must be spontaneous and persistent. This is because for a couple of days everyone can feign (to follow).’

Husn al Aziz, Malfuz # 417, volume 1, page 41-2