
محسوس تو ہوتے ہیں، نہ ہو دید تو کیا غم
اس راز کے محرم بھی اُدہر وہ ہیں اِدہر ہم
بابا نجم احسن رحمۃ اللہ علیہ

محسوس تو ہوتے ہیں، نہ ہو دید تو کیا غم
اس راز کے محرم بھی اُدہر وہ ہیں اِدہر ہم
بابا نجم احسن رحمۃ اللہ علیہ
The discourses of
sayyidi wa sanadi
Shaykh Mufti Mohammad Taqi Usmani (Allah preserve him)
given in this Ramadan are available here.
They provide a clear understanding of Tasawwuf and
how it can be implemented in our daily life.
An essential listening for all salikeen.

اوروں پر معترض تھے لیکن جو آنکھ کھولی
اپنے ہی دل کو ہم نے گنج عیوب پایا


مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،
میرے نزدیک مسلمانوں کا اس وقت مرض نہ کفر ہے نہ جہل ہے
اور نہ عمومی و عالمگیر فسق۔
ان کا مرض ظاہر و باطن کا اختلاف،
عقیدہ و عمل کی عدم مطابقت،
دعوے اور عمل کا تضاد،
عبادت اور اخلاق میں نہ صرف عدم مناسبت بلکہ بعد،
دنیا کو آخرت پر ترجیح،
اپنے حقیر و موہوم مفاد کے لئے دوسروں کے حقوق کی پامالی اور حق تلفی،
شریعت کو زندگی کے تمام شعبوں میں جاری و ساری نہ کرنے کی عادت،
رسوم و مظاہر کو حقائق و جواہر پر مقدم رکھنا اور ان کی احکام الہی کی طرح تعمیل کرنا ہے۔
(حیات مصلح الامت رح، ص3)
نعمتیں مل گئیں ہیں آہوں کی
ایسی تیسی میرے گناہوں کی
بابا نجم احسن رح

حال: بوجہ کمزوری دماغ بموجب حکم حضور بعد تہجد بارہ تسبیح بلا ضرب کے آہستہ کہ معمول ہے، مگر بوقت ذکر یکسوئی نہیں ہوتی۔
تحقیق حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ: یکسوئی نہ ہونے کی جو شکایت لکھی ہے (اس کا علاج یہ ہے کہ) اپنی طرف سے دوسرے خیالات کا استحضار نہ کیا جاوے، اگر اس پر بھی یکسوئی نہ ہو تو مضر نہیں۔
جس یکسوئی کا نہ ہونا مضر ہے وہ یکسوئی اعتقادی ہے، ایسے یکسو کو حنیف کہتے ہیں۔ اس کی تحصیل واجب ہے، اور اختیاری ہے۔
باقی خیالی یکسوئی وہ نہ اختیاری ہے نہ واجب اور نہ اس کا عدم مضر ہے۔
اس بات کو خوب یاد رکھنا چاہیۓ۔
اس کے نہ جاننے سے بہت لوگ پریشان ہیں۔
تربیت السالک، جلد 1، ص518

دل کونصیب ہو گداز، جاں کو عطا ہو سوز و ساز
ہے یہ دعا بصد نیاز درگہ بے نیاز میں
دل جو ہوا ہے سیاہ کار، آنکھ عطا ہو اشکبار
دھوۓ جو دل کو بار بار خلوت خاص راز میں
سید سلیمان ندوی رح
احمد تو عاشقی بمشیخیت ترا چہ کار
دیوانہ باش سلسلہ شد شد نشد نشد
(مجمع بڑھانے کی کوشش) فضول تو اسی درجہ میں ہے جب کہ
اس سےضروریات و معمولات میں خلل نہ ہو، اگر اس کی بھی نوبت
آنے لگے تو پھر سدراہ ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نیت تو مخلوق کی ہدایت ہے،
سو یاد رکھو کہ
اصل مقصود اپنا وصول الی اللہ ہے،
دوسروں کا ایصال بھی اسی لئے مطلوب ہے کہ
اس کے ذریعہ سے ہم کو بھی وصول تام ہو جاۓ،
حق تعالی راضی ہوجائیں۔
ورنہ ایصال خلق خود بالذات مطلوب نہیں، خصوص جبکہ
مخل وصول ہونے لگے۔
پس اصلی کوشش اپنے وصول کے لئے کرنا۔
البتہ بدون کاوش اور گھیر گھار کے کوئی طالب آجاۓ اور
اس کی طلب بھی محقق ہوجاۓ
تو اس کی خدمت کردینے کا بھی مضائقہ نہیں، بلکہ طاعت ہے۔
باقی یہ کیا واہیات ہے کہ ساری کوشش سلسلہ بڑھانے ہی
کے لئے کی جاتی ہے اور
اپنے وصول کی فکر نہیں۔
وعظ: الوصل وہلفصل، خطبات حکیم الامت رح، جلد 15/ص 192

از حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ،
1۔ مقامات
مقصود اصلی اس طریق میں اصلاح اعمال باطنی ہیں اور ان اعمال کو اصطلاح میں اخلاق و مقامات کہتے ہیں۔
2۔ احوال
وہ امور جو بمنزلہ ثمرات غیر اختیاریہ اصلاح مذکور کے ہیں۔
3۔ اشغال
وہ امور جو ان ثمرات کے معین و بمزلہ اسباب حصول ہیں۔
4۔ تعلیمات
وہ امور جو کسی اشتباہ کا دفع یا کسی مرض کا علاج یا کسی عمل کا طرز و طریق بتلائیں۔
5۔ علامات
وہ امور اختیاری یا غیر اختیاری جو ان ثمرات کے آثار ظاہری ہیں۔
6۔فضائل
وہ امور از قبیل نصوص جو ان اخلاق و صفات محمودہ پر بشارت دینے والے ہیں۔
7۔ عادات و آراب
وہ امور جو از قسم افعال اختیاریہ بمزلہ امور طبعیہ اس قوم صوفیہ کے ہیں۔
8۔ رسوم
وہ افعال از قسم افعال مباحہ مبنی بر بعض مصالح غیر ضروریہ۔
9۔ مسائل
وہ امور جو محض تحقیقات علمیہ ہیں۔
10۔ اقوال
وہ امور جو از قسم عبارات ہیں۔
11۔ توجیہات
وہ امور جو ظاہرنظر میں حدودجواز سے متجاوز معلوم ہوتے ہیں، اگر واقع میں وہ داخل حدود ہیں تو ان کی نسبت جو تاویل اور تطبیق کی جاۓ وہ۔
12۔ اصلاح
اور اگر واقع میں بھی خارج حدود ہیں تو اس میں جو تنبیہ کی جاۓ۔
13۔ متفرقات
بہت کم ایسے امور جو ان کلیات میں سے کسی کی فرد نہ ہوں۔
التکشف 258
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے وعظ لاتعداد لوگوں کی زندگی میں ایک خوشگوار ایمانی تبدیلی کا باعث بنتے رہے ہیں۔
صحیح فہم دین پیدا اور جذبہ عمل کو بیدار کرنے کے لئے ان کی افادیت کیمیا اثر ہے۔
سیدی و سندی حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ طالبین اصلاح کو ان کے مطالعہ کی خصوصی ہدایت فرماتے ہیں۔
الحمدللہ اب پھر سے انٹرنیٹ پریہ مواعظ موجود ہیں۔
آللہ سبحانہ و تعالی اس کام کو انجام دینے والوں کو دنیا و آخرت میں اجر عظیم عنایت فرمایئں۔ آمین!

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں،
اب پیر کا ادب خدا تعالی کے برابر کرتے ہیں کہ اگر سجدہ کا بھی حکم کرے تو شاید کرلیں اور استدلال میں حضرت حافظ رحمۃ اللہ علیہ کا شعر پڑھتے ہیں،
بمے سجادہ رنگیں گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نہ بود ز راہ و رسم منزلہا
اور یہ معنی سجھتے ہیں کہ اگر پیر شراب خوری کا بھی حکم کرے تو بجا لاؤ کیونکہ وہ منزل سےواقف ہے، تمہارے حق میں بھی مفید ہوگا۔ استغفراللہ! حضرت حافظ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ بلکہ مئے سے مراد طریق عشق ہے۔ اور سجادہ سے مراد قلب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سلوک میں ایک طریق اعمال کا ہے اور ایک طریق محبت و جذب کا ہے۔ پس اگر شیخ نے تمہارے لئےطریق محبت و جذب تجویز کیا ہو اور تمہاری راۓ میں طریقہ عمل مناسب ہو تو اس کو دل میں جگہ دو اور اپنی تجویز کو چھوڑو۔ کیونکہ عارف سالک اس منزل کی راہ و رسم سےنا واقف نہیں ہوتا۔
اور جو معنی مشہور ہیں وہ بالکل غلط ہے کیونکہ ہم نے تو پیر اس واسطے بنایا ہے کہ خدا تعالی کی رضامندی کا راستہ بتادے۔ اگر وہ راستہ نہ بتاوے۔ بلکہ راہ سے بٹادے تو اس کی پیروی ہرگز جائز نہیں ہے۔
واعظ: وحدۃ الحب، تسلیم و رضا،خطبات حکیم الامت رح، جلد 15، ص169-170

یاالہی!
دور کر دل سے نفاق و کبر و طغیان و غرور
کر عطا عشق و وفا صدق و صفا اخلاص و نور
شہ وصی اللہ رح شیخ با صفا کے واسطے
آمین!
