Category Archives: U. Urdu

طاعت کا اثر

colours.jpg

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرمایا،

 طاعت وہ چیز ہے کہ جب تک کسی نے کی نہیں جبھی تک وہ علیحدہ ہے، جہاں تھوڑی سی بھی کی پھر طاعت خود اس کو نہیں چھوڑتی۔ وہ چھوڑنا چاہتا ہے مگر یہ اوڑ اوڑ کر اس کو لپٹتی ہے۔

کر کے دیکھو، امتحانا” ہی سہی!

میں کہتا ہوں امتحان کرنے سے تو کیا بھولے سے بھی طاعت اگر ہوگی تو اثر ضرور کرے گی۔کپڑا بھولے سے رنگ میں گر جاۓ تو گو وہ بات نہ آۓگی کہ اگر کوئی قصدا” رنگتا مگر دھبے تو ضرور پڑ ہی جائیں گے۔

مواعظ اشرفیہ:مجموعہ جزہ و سزاء/ طلب الجنۃ، ص 302

رضا بالقضا‏ء

رضا بالقضاء کی حقیقت ترک اعتراض علی القضاء ہے۔

 اگر الم کا احساس ہی نہ ہو تو رضا طبعی ہے اور اگر الم کا احساس باقی رہے تو رضا عقلی ہے۔

 اور اول حال ہے جس کا بندہ مکلف نہیں اور ثانی مقام ہے جس کا عبد مکلف ہے۔

 تدبیر اس کی تحصیل کی استحضار رحمت و حکمت الہیہ کا واقعات خلاف طبع میں۔ 

مآثر حکیم الامت رح، ص 279

خطرات کے اسباب اورعلاج

کبھی خطرات کا سبب لطافت طبع اور ذکاوت حس ہوتی ہے،کبھی عوارض طبیہ، کبھی رزائل نفسانیہ، کبھی تصرفات شیطانیہ، کبھی معاصی اور کبھی حق تعالی کی جانب سے طلب کا امتحان ہوتا ہے۔ اور کبھی ان اسباب میں سے ایک سے زائد اسباب بھی جمع ہو جاتے ہیں۔

 اس صورت میں جب کہ تشخیص نہ ہوسکے تو سب معالجات کو جمع کرلیا جاۓ۔ لیکن ہر صورت میں علاوہ معالجات خاصہ کے سب کا مشترکہ علاج یہی ہے کہ التفات نہ کرے اور خوص نہ کرے، نہ خطرات میں نہ ان کے اسباب میں۔ 

اشرف سوانح، جلد 1، ص 434 

دین اور دنیوی مصالح

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرمایا، 

” دین میں دنیوی مصالح سے متا‍ءثرہونا سب کمزوری کی باتیں ہیں۔

 بڑی چیز دین ہے۔ یہ محفوظ رہے،

 خواہ تمام مصالح بلکہ سارا عالم فنا ہو جاۓ کچھ پرواہ نہیں۔” 

ملفوظات الافاضات الیومیۃ من الافادات القومیۃ، ج 2، ص389،م 640

Understanding the Ashrafiya path

In order to develop clear understanding and for easy practical implementation of the principles of Tasawwuf as outlined by Hakim al-Umma Mujaddid Hadhrat Mawlana Ashraf ‘Ali Thanawi (may Allah have mercy on him) most of the senior shuyukh of the tariqa recommend thorough reading of the following three books;

1. Tarbiyet us Salik (3 volumes) by Hakim al-Umma

2. Ashraf us Sawanih, volume 2, by Khawaja Aziz ul Hasan Majzoob

3. Maasir e Hakim al-Umma by ‘Arifbillah Dr. Abdul Hayy ‘Arifi

حقیقت تصوف

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا،
ہمارے نزدیک حقیقت تصوف صرف علم با عمل ہے۔اور عمل وہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے اور جو سالک کے اختیار میں ہے۔اس کے علاوہ سب چیزیں زائد ہیں اگر عطا ہو جائیں اور شیخ ان کو بتلا دے تو نعمت ہے اور قابل شکر اور عطا نہ ہوں یا عطا ہو کر زائل ہو جائیں تو ان کی تحصیل کی فکر یا ان کے زوال پر قلق طریق میں ناجائز اور باطن کے لئے سخت مضر ہے خواہ کچھ ہی ہو
بصائرحکیم الامت رح، ص 56

نسبت

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ نے فرمای

نسبت کے لغوی معنی تعلق اور لگاؤ کے ہیں، اور

اصطلاحی معنی میں بندہ کا حق تعالی سے خاص قسم کا تعلق یعنی قبول و رضا کا، جیسا عاشق مطیع اور وفادار معشوق میں ہوتا ہے۔

جب ذکر اللہ کی مواظبت اور ریاضت و مجاہدات کی کثرت سے ظلمت نفسانیہ و کدورات طبعیہ کا ازالہ ہو جاتا ہے تو قلب و روح کو حق تعالی کے ساتھ ایک خاص تعلق پیدا ہو جاتا ہے، اس کو نسبت سے تعبیر کرتے ہیں۔

نسبت تعلق طرفین کا نام ہے۔

یک طرفہ تعلق کو نسبت نہیں کہا کرتے۔

پس بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ان کو خدا تعالی کے ساتھ محض یاد کا تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق یک طرفہ ہے۔

تعلق دو طرفہ عمل و اطاعت سے ہوتا ہے۔ جب انسان عمل و اطاعت کا اہتمام کرتا ہے اسوقت حق تعالی کو بھی اس سے تعلق ہو جاتا ہے۔

اور اس کا القاء ایک دم نہیں ہوتا بلکہ رفتہ رفتہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

البتہ اس کی ظاہری علامت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تمام افعال، اقوال، و حرکات میں زیادہ تشبہ ہو۔

ہر بات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کی کوشش کی جاۓ اور یہ اتباع عادت ہو جاۓ کہ بے تکلف سنّت کے موافق افعال صادر ہونے لگیں۔

شریعت و طریقت ص 369 بحوالہ مسائل السلوک ص 503

حاصل طریق

مسیح القلوب حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

“اس طریق میں، اللہ کے راستے میں کوئی پوچھے کہ

کیا حاصل کیا؟ کتنا حاصل کیا؟

(تو کیا جواب دو گے. پھر خود ہی فرمایا)

حاصل کرنا اس طریق میں اپنے آپ کو مٹانا ہے۔

بڑے والہانا انداز میں فرمایا

“اجی! مٹانا کیا ہے؟

پانا ہے۔

اور

پاناکیا ہے؟

مٹانا ہے۔ “

اصلاح افروز بیانات ص 57

پیر بھائی

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرمایا:

خلیفہ ارشاد گو پیر بھائی ہو لیکن جب وہ بانابت شیخ افاضہ کرے تو اس کو مخدوم سمجھنا چاہیے۔ مساوات کا دعوی اورحسد موجب حرمان ہے۔”

عرفان حافظ: التکشف ص91

اپنے دین کی حفاظت مقدم ہے

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرما

اگر دوسرے کے دين کی حفاظت میں اپنے دین کا اندیشہ ہو تو اپنے دین کی حفاظت مقدم ہے

حسن العزیز 1/109