حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرمایا،
Category Archives: U. Urdu
A comprehensive supplication
مواعظ اشرفیہ
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ
مواعظ اشرفیہ
مواعظ اشرفیہ
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
رضا بالقضاء
رضا بالقضاء کی حقیقت ترک اعتراض علی القضاء ہے۔
مآثر حکیم الامت رح، ص 279
خطرات کے اسباب اورعلاج
کبھی خطرات کا سبب لطافت طبع اور ذکاوت حس ہوتی ہے،
اشرف سوانح، جلد 1، ص 434
دین اور دنیوی مصالح
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرمایا،
” دین میں دنیوی مصالح سے متاءثرہونا سب کمزوری کی باتیں ہیں۔
بڑی چیز دین ہے۔ یہ محفوظ رہے،
خواہ تمام مصالح بلکہ سارا عالم فنا ہو جاۓ کچھ پرواہ نہیں۔”
ملفوظات الافاضات الیومیۃ من الافادات القومیۃ، ج 2، ص389،م 640
Understanding the Ashrafiya path
In order to develop clear understanding and for easy practical implementation of the principles of Tasawwuf as outlined by Hakim al-Umma Mujaddid Hadhrat Mawlana Ashraf ‘Ali Thanawi (may Allah have mercy on him) most of the senior shuyukh of the tariqa recommend thorough reading of the following three books;
1. Tarbiyet us Salik (3 volumes) by Hakim al-Umma
2. Ashraf us Sawanih, volume 2, by Khawaja Aziz ul Hasan Majzoob
3. Maasir e Hakim al-Umma by ‘Arifbillah Dr. Abdul Hayy ‘Arifi
حقیقت تصوف
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا،
ہمارے نزدیک حقیقت تصوف صرف علم با عمل ہے۔اور عمل وہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے اور جو سالک کے اختیار میں ہے۔اس کے علاوہ سب چیزیں زائد ہیں اگر عطا ہو جائیں اور شیخ ان کو بتلا دے تو نعمت ہے اور قابل شکر اور عطا نہ ہوں یا عطا ہو کر زائل ہو جائیں تو ان کی تحصیل کی فکر یا ان کے زوال پر قلق طریق میں ناجائز اور باطن کے لئے سخت مضر ہے خواہ کچھ ہی ہو
بصائرحکیم الامت رح، ص 56
نسبت
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ نے فرمای
نسبت کے لغوی معنی تعلق اور لگاؤ کے ہیں، اور
اصطلاحی معنی میں بندہ کا حق تعالی سے خاص قسم کا تعلق یعنی قبول و رضا کا، جیسا عاشق مطیع اور وفادار معشوق میں ہوتا ہے۔
جب ذکر اللہ کی مواظبت اور ریاضت و مجاہدات کی کثرت سے ظلمت نفسانیہ و کدورات طبعیہ کا ازالہ ہو جاتا ہے تو قلب و روح کو حق تعالی کے ساتھ ایک خاص تعلق پیدا ہو جاتا ہے، اس کو نسبت سے تعبیر کرتے ہیں۔
نسبت تعلق طرفین کا نام ہے۔
یک طرفہ تعلق کو نسبت نہیں کہا کرتے۔
پس بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ان کو خدا تعالی کے ساتھ محض یاد کا تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق یک طرفہ ہے۔
تعلق دو طرفہ عمل و اطاعت سے ہوتا ہے۔ جب انسان عمل و اطاعت کا اہتمام کرتا ہے اسوقت حق تعالی کو بھی اس سے تعلق ہو جاتا ہے۔
اور اس کا القاء ایک دم نہیں ہوتا بلکہ رفتہ رفتہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
البتہ اس کی ظاہری علامت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تمام افعال، اقوال، و حرکات میں زیادہ تشبہ ہو۔
ہر بات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کی کوشش کی جاۓ اور یہ اتباع عادت ہو جاۓ کہ بے تکلف سنّت کے موافق افعال صادر ہونے لگیں۔
شریعت و طریقت ص 369 بحوالہ مسائل السلوک ص 503
حاصل طریق
مسیح القلوب حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
“اس طریق میں، اللہ کے راستے میں کوئی پوچھے کہ
کیا حاصل کیا؟ کتنا حاصل کیا؟
(تو کیا جواب دو گے. پھر خود ہی فرمایا)
حاصل کرنا اس طریق میں اپنے آپ کو مٹانا ہے۔
بڑے والہانا انداز میں فرمایا
“اجی! مٹانا کیا ہے؟
پانا ہے۔
اور
پاناکیا ہے؟
مٹانا ہے۔ “
اصلاح افروز بیانات ص 57
پیر بھائی
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرمایا:
خلیفہ ارشاد گو پیر بھائی ہو لیکن جب وہ بانابت شیخ افاضہ کرے تو اس کو مخدوم سمجھنا چاہیے۔ مساوات کا دعوی اورحسد موجب حرمان ہے۔”
عرفان حافظ: التکشف ص91
اپنے دین کی حفاظت مقدم ہے
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے فرما
اگر دوسرے کے دين کی حفاظت میں اپنے دین کا اندیشہ ہو تو اپنے دین کی حفاظت مقدم ہے
حسن العزیز 1/109

