عاشقوں کی منزل

صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 بے چین دل کا چین ہیں، آنکھوں کا نور ہیں

 منزل ہیں عاشقوں کی، یہ شان حضور ہے

مولانا بدرعالم مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ

________________

Advice to students

Sayyidi wa sanadi Shaykh Mufti Mohammad Taqi Uthmani (Allah preserve him) gave the following advice to a group of students,

1) Sacred knowledge is of no use or benefit to the aspiring students unless they act upon their knowledge and base their works upon it. And the most beneficial of works is that which brings one closer to the obedience of Allah Most High.

2) The students must purify their intention as to why they are seeking knowledge. Their intention must be purely and sincerely for the sake of Allah Most High.

3) The students should firmly adhere to the Sunnah (life-example) of the Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) in every aspect and circumstance of their life.

4) The  students must be constantly turning back to Allah Most High (ruju’ ilal-Allah) through their life journey, in all situations. Returning means to seek help from Allah against all difficulties and challenges, to seek to please Him, to seek protection and forgiveness from Him, and to be grateful and humble to Him.

5) The student of knowledge must  make lots of supplication (dua’) to Allah Most High, for every single one of his needs, whether they be needs of this world or the next.

Source: Seekers Guidance (with minor changes)

Ijazat

Mawlana Mohammad Kaleem Siddiqui (Allah preserve him) said,

‘Sheikh al-Hadith Mawlana Zakariya (Allah have mercy on him) said in regards to ijazat (permission to take murid), that it is a certification to practice medicine. It is not a certificate of (your own) health. Hence, treat yourself and also others.’

Monthly Armugan, June 2010, page 31

Sign of effective islah!

Shaykh Mawlana Munir Ahmad (Allah preserve him) said,

‘Sheikh al-Hadith Mawlana Zakariya (Allah have mercy on him) use to say that when someone talks bad about you or denigrates you and it does not instantly provoke you, then it can be assumed that your islah (reformation of morals) has been accomplished.’

Ikhlas kay anwarat, page 118

Get Wife’s certificate in Tareeqat!

‘Arif billah Dr. Abdul Hayy ‘Arifi (Allah have mercy on him) said;

“Brethren!

If you want to get a certification and approval for your knowledge obtain it from a Darululoom (maderassa) but for the achievements in tareeqat (i.e. getting rid of blame worthy moral traits like anger, pride, show off etc. & acquisition of praiseworthy moral traits like sincerity, humility, patience, etc.) get it from your wife, because she really knows you (inside out).”
ا
Malfoozat-e-Arifi page 216

——————

The bane of media outlets!

Arif-billah Dr Abdul Hayy ‘Arifi (Allah have mercy on him) said,

‘The biggest bane of the present society, (which are described to be beneficial by some, however, I consider them to be totally corrupt) are the mass media outlets. These include television, radio and newspaper.  They corrupt the morals. They have deteriorated our (humanely) condition, and made us infamous and disreputable.

They broadcast purposeless, paltry, heresy and iconoclastic things. These broadcasting results in the death of humaneness, honor of the human beings and our Islamic faith.

For the sake of God abstain from them!

Do not make an excuse that these can be used for broadcasting good. This a lame pretense. Show me where are they being used to spread good?’

Majalis e Arifi, audio set, CD#1, first waaz. Idara e Eshaat e Islam, Karachi, Pakistan

There are various reasons for the above statement.  They include: The repeated reading or viewing of reports of crime, devious, irrelevant, irreligious, and anti-Islamic things make an individual insensitive of their gravity.

The level of hatred towards sins is diminished.

The chances of being involved in sins which are a ‘norm’ in society increases.

The value of utilizing time effectively is distorted.

The spiritual darkness that accompanies such things makes it difficult to initiate and sustain good works. Etc.

(Irresponsible use of Internet, especially purposeless surfing, should be included in this.)

اصلاحی خطوط

سیدی و سندی

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ

کی خدمت میں

حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے

اصلاحی خطوط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

احقر کے والد حضرت کمانڈر شوکت کمال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ٢ سال پھلے مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ  نے سیدی و سندی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی خدمت میں اپنی اصلاح کے لئے جو خطوط لکھے  ان میں سے ایسی باتیں جو ہم سب کے لئے مفید ہوسکتی ہیں، اس مضمون میں پیش کی جارہی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کو ہم سب کے لئے نافع اور مرحوم کے لئے صدقہ جاریہ بنادیں۔ آمین۔  سیدی و سندی حضرت مدظلہ کے حسب ارشاد مختصراً آپ کےحالات زندگی بھی شامل کئے جارہے ہیں۔

مختصر حالات زندگی

حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ۳ نومبر ۱۹۳۰ ع کو الہ آباد کے قصبہ بیگم سرآئے میں ہوئی۔ آپ کے والد جناب خان بہادر محمد حنیف صاحب کثیر العیال اور کنبہ پرور انسان تھے۔ علیگڑھ کالج کی تعلیم کے باوجود دینی سوچ رکھتے اور حضرت شاہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔ آپ کے دادا صاحب شیخ سلامت علی مرحوم حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلہ میں حضرت محمد بشیرالدین قنوجی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت تھے۔

والد صاحب نے ابتدائی تعلیم الہ آباد اور اسلامیہ کالج لکھنئو میں حاصل کی۔تقسیم ہند کے بعد پاکستان آ کر نیوی میں آفیسر ہوگئے۔1976 میں نیوی سے ریٹائرمنٹ کے بعد نشینل ریفائنیری میں ملازمت کر لی۔  اس دوران 1984 میں دفتر میں پریشانی حضرت عارف باللہ ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری کا سبب بن گئی۔ جس کا وسیلہ اللہ تعالی نے ڈاکٹر عبدالحمید صاحب کو بنایا۔ جزاک اللہ۔

حضرت عارفی قدس سرہ کی کیمیا اثر صحبت نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ جمعہ کی مجلس میں باقاعدہ حاضری اور اصلاحی خط و کتابت شروع ہوگئی۔

ایک عریضہ کے جواب میں حضرت عارفی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا،

‘آپ کے دل میں دین کی عظمت ہے۔ انشاءاللہ اس کے ثمرات ضرور آپ کو ملیں گے۔’

البتہ 1986 میں حضرت عارفی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال سے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔

حضرت عارفی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعدآپ نے اپنی اصلاح کے لئے مختلف بزرگوں کی خدمت میں حاضری دی۔ مگر کہیں مناسبت، جو نفع کے لیۓ لازم ہے، نہ پیدا ہوئی۔ بلآخر  1988 میں سیدی و سندی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی مجلس میں حاضری ہوئی۔ جو ان دنوں لسبیلہ چوک پر مسجد نعمان میں ہوتی تھی۔ شفقت، دلسوزی، خیر خواہی، ہمدردی، نرمی اور پرامیدی کا جو رنگ حضرت عارفی رحمۃ اللہ علیہ کا خاصہ تھا وہ بعینہ یہاں پایا۔ الحمدللہ پھر باقاعدہ اصلاحی تعلق قائم کیا، بیعت ہوۓ اور بلآخر مجاز بیعت ہوۓ۔

بزرگوں کی نسبت کی برکت سے آپ نے ایک صاف و شفاف زندگی گذاری۔  آپ شوق عبادت اور ادائیگی حقوق العباد میں ہمت و عزیمت کا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔متعدد بار حاضری حرمین شریفین سے مشرف ہوۓ۔ وفات سے دو ہفتے قبل بھی عمرہ کے سفر سے واپسی ہوئی تھی۔ مختصر علالت کے بعد جمعۃ المبارک 19 شعبان 1429 بمطابق 22 اکست 2008 کو انتقال فرمایا۔  اللہ تعالی ان کی مغفرت فرما کرانہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔

ذیل میں آپ کی اصلاحی مکاتبت میں سے انتخاب پیش خدمت ہے۔ اللہ تعالی اس کو ہم سب کے لئے نافع بنا دیں۔ آمین۔

اول تعلیم: تواضع

اصلاحی تعلق کی درخواست کے جواب میں سیدی و سندی مدظلہ نے تحریر فرمایا،

‘احقر تو خادم ہے اور خدمت حتی الوسع کے لئے حاضر ہے۔ جو کچھ احقر کو معلوم ہے عرض کردیگا۔ آپ خط لکھ دیا کریں۔’

بزرگوں سے تعلق

حضرت والد صاحب نے حضرت عارف باللہ ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ سے اپنے اصلاحی تعلق کا ذکر فرمایا۔ سیدی و سندی مدظلہ نے جوابا” تحریر فرمایا،

‘ڈاکٹر صاحب قدس سرہ کے ساتھ تعلق بڑی نعمت ہے۔ انشاءاللہ دنیا و آخرت میں کام آئیگا۔’

 

کلید کامیابی

سوال: جمعہ کی مجلس میں جو باتیں سنتا ہوں، ان پر اپنے کو پرکھ کر دیکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہرں کہ جتنا ممکن ہوسکے عمل کروں۔

جواب: ‘یہی فکر کلید کامیابی ہے۔

 

معمولات کی ادائیگی پر شکر و استغفار

معمولات کی ادائیگی میں پابندی کے باوجود نقص کے احساس پر سیدی و سندی مدظلہ نے فرمایا،

‘شکر ادا کیجئے کہ جو توفیق ہو رہی ہے منجانب اللہ ہے۔ بہت سے اس سے بھی محروم ہیں اور جب اپنے عمل کی کوتاہی کا احساس ہو تو استغفار کیجئیے۔ بس یہی کرتے رہنا ہے۔ کام میں حتی الوسع لگے رہیے، ثمرات و نتائج کا انتظار نہ کیجۓ۔’

 

حقیقت بیعت

بیعت کی درخواست پر فرمایا، ‘ہاتھ پر ہاتھ رکھکر بیعت کرنا ضروری نہیں، اصل چیز اصلاحی تعلق قائم کر کے ہدایات حاصل کرنا ہے۔آپ چونکہ حضرت والا (عارفی) رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے ہیں، اس لئے امید ہے کہ انشاءاللہ یہ کافی ہے۔ تاہم بیعت سے سلسلے کی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن احقر ابھی بیعت نہیں کرتا۔ اگر بیعت کا تقاضا ذیادہ ہو تو بیعت حضرت ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب مدظلہم، اناج بازار سکھر سے ہو جائیں یا حکیم اختر صاحب سے۔ لیکن خط و کتابت کے ذریعے احقر پہلے کی طرح خدمت انجام دیتا رھیگا۔’

 

معمولات میں دل لگنا

 معمرلات میں دل نہ لگنے کی شکایت پر فرمایا، ‘ دل لگنا ضروری نہیں، دل لگانے کی کوشش ضروری ہے، اور عمل یا ذکر جس کیفیت کے ساتھ ہو قابل شکر ہے۔’

 

اصلی کوشش

سوال: ‘ اللہ تعالی کو راضی کرنے اور راضی رکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔

جواب: ‘ یہی کوشش تادم آخر جاری رھنی چاھئے۔’

 

فکر آخرت

سوال: کبھی کبھی دل میں شدت سے خیال آتا ہے کہ انجام کیا ہوگا۔ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ کل جمعہ کی مجلس میں آپ کے بیان کے دوران برابر رقت طاری رہی۔

جواب: ‘ماشاءاللہ یہ اچھی حالت ہے۔ فکر آخرت مبارک ہو۔’

 

مکمل اور اصلی تسلی

سوال: معمولات برابر جاری ہیں، لیکن تسلی نہیں ہوتی۔ ہر وقت خیال رھتا ہے کہ نہ معلوم کیا کیا کوتاہی ہو رہی ہے۔

جواب: مکمل تسلی تو دین کے معاملہ میں ہونی بھی نہ چاھیے۔ ہر دم جس کو اپنی عاقبت کی فکر ہو اسکی اصل تسلی تو اس وقت ہوگی جب پتہ چل جائیگا کہ اللہ تعالی نے مغفرت و رحمت کا معاملہ فرما کر بخش دیا۔ لیکن اپنی سی کوشش اصلاح کی کرتے رھنا چاھیۓ۔ بہتر ہے کہ امام غزالی رح کی تبلیغ الدین پڑھکر اپنے حالات کا اس کی روشنی میں جائزہ لیں۔ کوئی بات پوچھنے کی ہو تو پوچھ لیں۔ نیز ‘اسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم’ کی روشنی میں اتباع سنت کا اھتمام کریں۔

 

ماضی کی تلافی

سوال: عمر کے 63 سال پورے ہوگۓ۔ ساری عمر کوتاہی اور غفلت میں گذرگئی۔

جواب: حب ماضی کا خیال آیا کرے فورا” استغفار کا اھتمام فرمالیا کریں۔ انشاءاللہ کوتاہی اور غفلت کی تلافی ہو جائیگی۔

 

اصل چیز کوشش ہے

سوال: معلوم نہیں کون کون سے حقوق العباد اور حقوق اللہ اب بھی پورے نہیں ہورہے۔

جواب: کوشش جاری اے کہ نہیں؟ اگر کوشش ہے اور قدم آگے بڑھ رہا ہے تو اس پر شکر ادا کریں، اور جو کوتاہی ہے اسکا تدارک عمل یا استغفار سے کریں۔ بس یہی کرتے رھنا ہے۔

 

 

اصلاح کی فکر

سوال: معلوم نہیں اللہ تعالی ایسے ناکارہ بندے کے ساتھ کیا معاملہ کریں گے؟

جواب: اللہ تعالی کی رحمت سے امید رکھتے ہوۓ اصلاح کی فکرجاری رہے تو ان کی طرف سے کرم ہو جاتا ہے۔

 

مناسبت استفادے کیلیۓ ضروری ہے

بیعت کی درخواست قبول کر تے ہوۓ تحریر فرمایا، ‘احطر نے ابتک دو وجہ سے بیعت کی ضرورت نہ سمجھی تھی۔ اولا” اپنی نااہلی کی وجہ سے، ثانیا” دوسرے ایسے حضرات کا پتہ بتا دیا تھا جن سے بیعت ہو کر احقر کو ذیادہ نفع کی امید تھی۔ لیکن اس طویل مدت میں ان کی طرف آپ کا رجوع نہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وہاں مناسبت نہیں، جو استفادے کیلیۓ ضروری ہے۔ لہذا جب آپ احقر کی نااہلی کے باوجود احقر سے یہ خدمت لینا چاھتے ہیں تو بسم اللہ! فون پر وقت طے کر کے تشریف لے آئیں۔ اور آنے سے پہلے “تسہیل قصد السبیل” کا مطالعہ فرما لیں۔

تا دم آخر دمے فارغ مباش

سوال: اکثر خیال آتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ معمولات پورے نہ ہو پائیں۔ پھر اللہ سے دعا کرتا ہفں کہ جیسے اب تک مدد کی ہے ویسے ہی مدد کرتے رھیۓ۔

جواب: الحمدللہ، یہی ادھیڑ بن زندگی بھر جاری رکھنی ہے۔

شکر کا طریقہ

سوال: اپنی زندگی پر نظر کرتا ہوں تو روئیں روئیں سے اللہ تعالی کا شکر کرتا ہوں۔

جواب: رات کو سونے سے پہلے ایک ایک نعمت کا تصور کر کےزبان سے جتنا ہوسکے شکر ادا کیا کریں۔

اصلی اطمینان

سوال: نہ تو اعمال کسی قابل پاتا ہوں اور نہ کوئی ایسی بات جس سے اطمینان ہو کہ وہاں بھی معاملہ یہی رہے گا۔

جواب: اطمینان اپنے کسی عمل سے نہیں، ان کی رحمت پر نگاہ کرنے سے کہ جب یہاں نوازا ہے تو انشاءاللہ وہاں بھی محروم نہ فرمائینگے۔

معمولات پر استقامت اور طریقہ اپنے رزائل معلوم کرنے کا

جواب: معمولات پر استقامت مبارک ہو۔ اللہ تعالی مزید ترقیات ظاہرہ و باطنہ سے سرفراز فرمائیں۔ آمین۔ اپنا جائزہ ‘بصائر حکیم الامت رح’ کی روشنی میں لیتے رہیں۔ جہاں اپنے عمل میں کسی رزیلے کا شبہ ہو لکھ کر اس کے بارے میں دریافت کرلیں۔

رمضان کے معمولات

سوال:رمضان المبارک کے لئے دعا اور نصیحت کی درخواست ہے۔

جواب: رمضان شریف میں کثرت تلاوت، کثرت ذکر، نگاہوں کی حفاظت اور کثرت دعا کا اھتمام کیں۔ احقر کو بھی یاد رکصنے کی درخواست ہے۔

کم مائیگی کا احساس

سوال: اپنی عبادت کی کم مائیگی کا احساس اور ادراک ہے، نظر صرف اور صرف ان کے کرم پر ہے۔

جواب: اللہ تعالی کا فضل و کرم ہے۔ اس نعمت پر خوب شکر ادا کریں۔ اللہ تعالی اس کے انوار و برکات سے مالامال فرمائیں۔ آمین۔

مواعظ اشرفیہ کے مطالعہ کی ترغیب

سوال: پچھلے دنوں آپ نے دریافت فرمایا تھا کہ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے چالیس مواعظ پڑھ لیۓ ہیں؟ چونکہ گن کر نہیں پڑھے تھے اس لیۓ اندازا” تعداد بتادی تھی۔

جواب: مواعظ کم از کم چالیس جلد از جلد مکمل کرلیں۔

 

رضا بالقضاء کی حقیقت

سوال: بیماری کے دوران اطمینان قلب رہا اور ذکر کی کثرت رہی۔ بیماری کی وجہ سے کسی قسم کی وحشت یا عقلی اندیشہ نہ ہونے پایا۔ پورا یقین اور اطمینان رہا کہ انشاءاللہ، اللہ تعالی جو کچھ میرے لیۓ کریں میرے حق میں بہتر ہےگا۔

جواب: الحمدللہ، یہی رضا بالقضاء ہے، اور بڑے اجر کا موجب، انشاءاللہ۔

عمل کی حقیقت

سوال: آخرت کا دھیان رھتا ہے اور سمجھتا ہوں کہ کہ اپنا کوئی عمل اس قابل نہ ہوا کہ  وہاں پیش ہو سکے۔ کیا حسر ہوگا؟

جواب: عمل اپنی ذات میں کچھ نہیں۔ مگر ان کی سنت یہ ہے کہ بندے کے ٹوٹے پھوٹے عمل پر بھی کرم فرما تے بیں۔

 

اجازت بیعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترمی جناب شوکت کمال صاحب زید مجدکم

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بندے کے دل میں قوت کے ساتھ یہ داعیہ پیدا ہوا کہ آپ کو بیعت و تلقین کی اجازت دوں، چنانچہ دعا اور استخارہ کے بعد اللہ تعالی کے نام اور اس کے بھروسے پر آپ کو سلسلئہ اشرفیہ میں بیعت و تلقین کی اجازت دیتا ہوں۔ اگر کوئی طالب صادق اصلاحی تعلق کیلیۓ رجوع کرے تو انکار نہ کریں، اور مناسب وقت پر بیعت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت اپنی سعادت سمجھ کر انجام دیں، اس سے متعلم کے ساتھ معلم کو بھی نفع ہوتا ہے، اپنے خاص اہل تعلق کو اس کی اطلاع بھی کر دیں، والسلام۔

اس سلسلے میں مزید ہدایات انشاءاللہ عنقریب ارسال کروں گا۔

 

ذمہ داری منجانب اللہ پر امداد الہی

اجازت بیعت کی اطلاع پر حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر رقت طاری ہوگئی اور تواضع و شکستگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔

سوال: حضرت میں صدق دل سے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہرگز دور دور تک اس اجازت کا نہ تو اہل ہوں اور نہ اس لائق ہوں کہ اتنی بڑی ذمہ داری نباہ سکوں۔

جواب: اسی کی توقع بھی، اور ایسا ہی ہونا چاھیۓ۔ البتہ جب کوئی ذمہ داری بغیر طلب کے منجانب اللہ آجاۓ تو اللہ تعالی کی طرف سے مدد بھی ہوتی ہے، انشاءاللہ ہوگی۔ ایک ہدایت نامہ منسلک ہے،اسپر عمل کرتے رہیں۔

 

ہدایات براۓ مجازین

1۔ اپنی اصلاح کی فکر سے کبھی غافل نہ ہوں

2۔ معمولات پہلے سے زیادہ پابندی کے ساتھ انجام دیں

3۔ اپنے آپ کو خادم سمجھیں، اور اصلاحی تعلق قائم کرنے والوں کا کام خدمت سمجھ کر انجام دیں

4۔ کبھی مخدومیت، یا مروجہ پیری مریدی کی شان بنانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اس کو اپنے لیۓ زھر قاتل سمجھیں

5۔تعلق رکھنے والوں کے تعریفی کلمات سے عجب کے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ یہ تصور کریں کہ یہ اللہ تعالی کی ستاری ہے کہ اس نے ان کی آنکھوں سے میرے عیوب چھپا دیۓ۔

6۔ عبارت کے اھتمام کے ساتھ اخلاق، معاملات اور معاشرت کو درست رکھنے کا خود بھی اھتمام کریں اور متعلقین کو بھی اہمیت کے ساتھ تلقین کریں

7۔ حکیم الامت قدس سرہ کے مواعظ و ملفوظات اور تربیت السالک کا مطالعہ اھتمام کے ساتھ بطور معمول کرتے رہیں

8۔ کسی سائل کے سوال کا جواب معلوم نہ تو کسی بڑے سے پوچھ کر جواب دیں۔

اللہ تعالی اس خدمت کو بطریق احسن انجام دینے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

وعظ و نصیحت میں نیت

سوال: ہر جمعہ اپنے متعلقین چھوٹے بڑے سب کو لیکر عصر کے بعد بیٹھتا ہوں اور دین کی بات کرتا ہوں۔ آپ کی کتابوں اور بہشتی زیور سے مدد لے رہا ہوں۔ محسوس کرتا ہوں کہ اس سے مجھے خود بہت نفع ہورہا ہے۔

جواب: اپنے نفع کی ہی نیت اصل ہونی چاھیۓ۔

مجازین کو تنبیہ

کسی غیر مناسب عمل پر سیدی و سندی مدظلہ نے تحریر فرمایا، ‘ اب آپ کو ان نسبتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے جو بفضلہ تعالی آپ کو حاصل ہوگئ ہیں۔”

غلطی کا احساس قابل شکر ہے

سوال: اپنی غلطی کے ادراک سے سخت ندامت اور افسوس ہوا۔ رات بھر بیچنی رہی اور نیند نہیں آئی۔ صلوۃ توبہ پڑھ کر استغفار کرتا رہا۔

جواب: الحمدللہ، غلطی کا احساس اور اس پر ندامت و توبہ قابل شکر ہے۔

قابل اصلاح امور میں اوروں کو تنبیہ کے سلسلہ میں ہدایت

جواب: تنبیہ میں حتی الامکان نرمی اور پر شفقت فہمائش کے انداز کو مد نظر رکھنا چاھیۓ۔

خانگی امور میں ناچاقیوں کے سلسلہ میں ہدایت

جواب: دنیا میں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ان میں جتنا دخل اپنی غلطی کا ہو اس پرتوبہ و استغفار اور جو غیر اختیاری ہو اس پر صبر و رضا بالقضاء ہی مومن کا صحیح شیوہ ہے۔ اس سے پریشانی ناقابل برداشت نہیں ہو پاتی۔ جس کا بھروسہ اللہ تعالی پر ہو اسے ایسی پریشانی کیوں ہو۔

کرنے کے تین کام

سوال: اپنے پاس تو کچھ بھی نہیں۔

جواب: اپنے کیۓ پر استغفار، ان کی توفیق پر شکر اور ان کی رحمت سے امید۔ یہ تین کام جاری رکھیں۔

ملک کے حالات سے متاثر ہونا

سوال: ملک اور گردوپیش کے حالات کا دل پر اثر رہتا ہے قبض کی صورت ہوتی ہے۔

جواب: یہ جذبہ ایمانی کی علامت ہے۔

 

اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مکمل مغفرت فرمائیں اور درجات بلند کر یں۔ آمین۔ 

آخر میں احقر دو ملوظات ایصال ثواب کے بارے میں نقل کرتا ہے۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نرمایا،

‘مستحب طریقہ سے ایصال ثواب تو بعد کی چیز ہے۔

 سب سے پہلے دیکھنے کی اور ضروری چیزیں یہ ہیں کہ مرحوم کے ذمہ قرض تو نہ تھا، اگر قرض ہے تو یہ فرض ہے کہ پہلے اس کو ادا کیا جاوے۔

اگر قرض نہیں یا ادا ہو کر کچھ ترکہ بچ گیا تو یہ دیکھو کہ مرحوم کی کچھ وصیت تو نہیں، جب اس سے بھی یکسوئی ہے جاوے اور ترکہ خالص وارثوں کا قرار پا جاوے تو پھر دوسرے خیر خیریت خصوص متعارف رسمیات سے مقدم یہ دکھنا ہے کہ میت کے ذمہ کچھ نماز اور روزہ تو قضاء نہیں۔

اگر ہے تو اس کا فدیہ دیں، اگر اس کے ذمہ زکوۃ ہف اس کو ادا کریں۔ محلہ میں جو غرباء، یتیم، بیوہ، محتاج ہوں انکو تقسیم کردیا جاۓ۔ یہ دوسرا تطوع ایصال ثواب سے بڑھ کر ہے۔؛ (الافاضات الیومیہ جلد 7، ص 40)

عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا،

‘ہم پر اللہ تعالی نے اپنے حقرق کے بعد والدین کے حقوق واجب فرماۓ ہیں۔ انہوں نے پالا پرورش کی، دعائیں کیں، راحت پہنچائی اور جب تک تم بالغ نہیں ہۓ تمہارے کفیل رہے اور جب تم بالغ ہوۓ تو تم نے ان کی کیا خدمت کی ہوگی۔ دیکھو جتنا سرمایا ہے اپنے زندگی بھر کے اعمال حسنہ کا اور طاعات نانلہ کا سب نذر کر دو اپنے والدین کو، ان کو بہت بڑا حق ہے، کیونکہ والدین کو اللہ تعالی نے مظہر ربوبیت بنایا ہے۔ اس عمل خیر کا ثواب تمہیں بھی اتنا ملے گا جتنا دے رہے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ یہ تمہارا ایثار ہے اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔

میں تو اپنی ساری عمر کی تمام عبادات و طاعات نافلہ اور اعمال خیر اپنے والدین کی روح پر بخش دیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اب بھی حق ادا نہیں ہوا۔ اللہ تعالی اپنی رحمت واسعہ سے قبول فرمالیں۔  (رمضان المبارک کے انوار و برکات، ص 14)

حضرت والد رحمۃ اللہ علیہ  کی وفات پر

سیدی و سندی حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی نظم سے انتخاب

 

کیوں تیرہ و تاریک ہے نظروں میں جہاں آج

کیوں چھاۓ ہیں ہر سمت یہ ظلمت کے نشاں آج

کیا نخل تمنا کو میرے آگ لگی ہے؟

رہ رہ کے یہ سینےسے جو اٹھتا ہے دھواں آج

رفتار تنفس ہے کہ چلتے ہوۓ آرے

کیوں جرعئہ زہر اب ہے یہ شربت جاں آج

کیا حضرت والد کو قضا لے کے چلی ہے؟

اک قافلہ نور ہے گروں پہ رواں آج

ابا میرے جنت کے بسانے کو چلے ہیں

اے موت! ترا مرتبہ پہنچا ہے کہاں آج

دل میں وہ تلاطم ہے کہ ہلچل سی مچی ہے

اور آنکھ ہے ظالم! کہ بس خشک کنواں آج

وہ والد مشفق، وہ مرے شیخ و مربی

کس دیس کی بستی میں ہیں آرام کناں آج

کیا سچ ہے کہ اب ان کو نہ میں دیکھ سکوں گا

یا دیکھ رہا ہوں کوئی خواب گراں آج

اب کون ہے دنیا میں جو پوچھے گا تقی کو

کس فکر میں ہے؟ کیوں نہیں آیا؟ ہے کہاں آج

Nisbet

In Holy Mosque, sitting in front of the Yemeni corner (rukune yamani) of the blessed Ka’aba Hadhrat Mawlana Mohammad Taqi Usmani (may Allah preserve him) was asked by an individual,

“How can a person develop nisbet (perpetual, strong and mutually friendly relationship with Allah most high)?”

Hadhrat replied,

“Hakeem al-Umma (may Allah have mercy on him) has succinctly said regarding it
کسی اللہ والے کی جوتیوں میں جا پڑے

Another individual asked for further explanation of the above statement.  

Hadhrat explained that,
“It means to efface one’s desires, suggestions and expectations in front of a Sheikh. To do as he is told to do. Not to be independent and to have complete submission.”

 Makkah e mukaramah, 5th Safar 1428/2007-02-22

Goal of the the tariq!

Hakim al-Umma Mawlana Ashraf Ali Thanawi (Allah have mercy on him) said,

‘I tell you* what I have learnt in my whole life to be the end result of this path (tariqat).

It is annihilation (fana)and servant-hood (abdiyet).

Therefore, one must annihilate himself as much as possible.

All the spiritual exercises (riyadath) and struggles (mujahida) are done to achieve this.

One should spend his whole life trying to attain this annihilation and servant-hood. ‘

Basair e Hakim al Ummat ra, page 208

* This was stated on request of Allamah Sayyid Suleman Nadwi (Allah have mercy on him) on his first visit to Thana-Bhawan.

The Rights of fellow humans!

Shaykh Mufti Ashiq Illahi Bulandshahri mohajir Madani (Allah have mercy on him) said,

‘The issue of the rights of the fellow human beings (huqooq al-‘ibad) is of great enormity.  Commonly people are negligent about them. For them religiosity is limited to salah, (long) shirt and beard.

Shaykh Sufyan Thawri (Allah have mercy on him) used to say,

‘If an individual comes on the day of Judgment with seventy disobediences of Allah it is lighter sin than arriving there with a single obligation pending for a fellow human being.’

This is because Allah is self-sufficient (as-Samad) one can expect forgiveness from Him, whereas humans are needy. Therefore, it is essential to be vigilant about these rights. It is of immense importance that one clears these dues before death. It is a stupid idea to expect forgiveness from fellow humans on that day (of Judgment). They will be in need there in a a very tight situation. They will be looking for minute gains and all will try to claim their pending dues in full.

The situation in distribution of inheritance (merath) is sinful for almost all religious individuals, self-proclaimed pirs, scholars, and  lay public. The wealth (and property) of the deceased person is not distributed as per the Shariah rulings among the inheritors. The share of the widow and orphans is engulfed by others.’

Yadgar e Saliheen, Halaat e zindagi, page 104-5

Reasons for not recognizing the pious!

————–

_________

——————–

Shaykh Shah Wasiullah (Allah have mercy on him) said,

‘The reasons why it is becoming difficult to recognize the pious are,

1. The prevalent and rampant assumption that pious do not exist (anymore),

2. Lack of yearning and desire (talub, i.e. to seek Allah’s pleasure)

3. Absence of sincerity (in this search particularly and in general also).’

Taharat e qalb, page 132

—————-

Following of Sunna & Chishtiya

Shaykh al-Islam Mawlana Sayyid Hussain Ahmed Madani (Allah have mercy on him) said,

“Our mashaikh of Chishtiya have three (distinguishable) eras.

The first one is overwhelmed by zuhd (asceticism, abstinence from all that is worldly), the second is overwhelmed by ishiq (ecstatic love) and the last (and current) generation is overwhelmed by itiba-e-Sunna (meticulous following of the blessed Prophet, Allah’s blessings and peace be upon him).”

Maktubat e Shakyh al-Islam, volume 3, page 67

____________